اگر محموداللہ آخری اوور نہ پھینکتے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
مشرفی مرتضیٰ یہ طے کر چکے تھے کہ آخری اوور سومیا سرکار ہی پھینکیں گے۔ سومیا سرکار بھی کمر کس چکے تھے۔ اپنے تئیں تو وہ اوور سے پہلے کی بولنگ پریکٹس بھی کر چکے تھے۔
مگر پھر وہ ایک لمحہ آیا جہاں قسمت کو بساط پلٹنا تھی۔
جب سومیا سرکار آخری اوور پھینکنے کے لیے ذہنی طور پہ تیار ہو چکے تھے، نجانے محمود اللہ کو کیا سوجھی کہ آن کر مشرفی مرتضیٰ کو کچھ سمجھانے لگے اور مشرفی مرتضیٰ بھی شب بھر کی جارحانہ کپتانی کے بعد اچانک بیک فٹ پہ چلے گئے۔
سومیا سرکار فیلڈ میں واپس چلے گئے اور محمود اللہ نے آخری اوور پھینکنا شروع کیا۔
یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ محمود اللہ نے مشرفی مرتضیٰ کو کیسے قائل کیا ہو گا۔ لیفٹ ہینڈڈ بیٹسمین سامنے تھا۔ آف سپنر اس صورتحال میں آئیڈیل تھا کہ دائرے میں سنگل روک کر بڑی شاٹ پہ مجبور کیا جائے گا اور وکٹ مل جائے گی۔
کرکٹ میں ایسا تو بہت بار ہوا ہے کہ آخری اوور میں دس پندرہ رنز کا ہدف حاصل کر لیا گیا مگر بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آخری اوور میں چار پانچ رنز بھی نہیں بن پاتے۔ محمود اللہ کو بھی ایسی ہی کچھ امید تھی مگر ایسا ہو نہ پایا۔
بنگلہ دیش نے اپنی استعداد اور وسائل کے اعتبار سے اس ٹورنامنٹ کی بہترین کرکٹ کھیلی ہے۔ پہلے ہی میچ میں انہیں تمیم اقبال کی انجری دیکھنا پڑی۔ پہلے راونڈ میں افغانستان کے ہاتھوں شکست، پھر سپر فور کے پہلے میچ میں انڈیا سے بڑے مارجن کی ہار۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس پہ طرہ یہ کہ پاکستان کے خلاف اہم ترین میچ میں اترنے سے ذرا پہلے ہی شکیب الحسن کی انجری سامنے آ گئی۔ مگر اس کے باوجود تمام خدشات سے لڑ کر مشرفی مرتضیٰ کی ٹیم فائنل میں پہنچی۔
لٹن داس کی کل کی اننگز دیکھ کر بہت سے مبصرین کو حیرت ہوئی کہ ایسی بھی چنگاری یا رب اپنی خاکستر میں تھی۔ مگر شاید یہ اننگز تبھی طے پا گئی تھی جب پچھلے میچ میں لٹن داس نے شعیب ملک کا کیچ ڈراپ کیا تھا۔ شاید تبھی یہ تہیہ ہو گیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش فائنل کھیلا تو لٹن داس اس کیچ کا کفارہ ضرور ادا کریں گے۔
اپنے تئیں لٹن داس نے کوئی کسر چھوڑی بھی نہیں۔ مگر نجانے یہ ناقابلِ فہم بیٹنگ آرڈر تھا یا کوئی جلد بازی کہ سارا مڈل آرڈر اور لوئر آرڈر مل کر بھی اوپننگ پارٹنرشپ کے برابر رنز نہ جوڑ پایا۔
مہدی حسن سے اوپننگ کرانے کا فیصلہ بہت دلیرانہ اور مثبت تھا مگر جس وقت پہلی وکٹ گری، تب کسی اور کی بجائے صرف اور صرف مشفق الرحیم کو بھیجنا چاہئے تھا مگر شاید اسی کا نام قسمت ہے کہ پہلے بیس اوورز میں بھارتی بولنگ اور روہت شرما کی کپتانی کے چھکے چھڑا دینے والی اننگز دو تین اوورز میں ہی ایسی بے راہ روی کا شکار ہوئی کہ وکٹیں تاش کے پتوں کی طرح گرنے لگیں۔
اس وکٹ پہ 222 کوئی بڑا ٹوٹل نہیں تھا۔ جس طرح کی فارم انڈین اوپنرز کی چل رہی ہے، یہ آسانی سے حاصل ہو سکتا تھا۔ عین ممکن تھا کہ تیس اوورز میں ہی قضیہ نمٹ جاتا۔
مگر مشرفی مرتضیٰ نے جس ذہانت اور بصیرت سے کپتانی کی، اس نے بھارتی بیٹنگ لائن کو ایک ایک رن کے لیے مشقت کرنے پہ مجبور کئے رکھا۔
اس میں شبہ نہیں کہ سومیا سرکار سے آخری اوور کروانے میں بہت بڑا رسک تھا۔ یہ ممکن تھا کہ جس پارٹ ٹائم بولر نے پورے دن میں ایک بھی اوور نہیں پھینکا، کہیں پہلی ہی گیند پہ چھ رنز نہ کھا لے۔ مگر اسی رسک میں یہ بھی عین ممکن تھا کہ پارٹ ٹائمر کو اٹیک کرنے کی کوشش میں بھارت خود ہی سے ہار جاتا۔
مشرفی مرتضیٰ نے شب بھر دلیرانہ کپتانی کی مگر بالکل آخری لمحات میں کنفیوز ہو گئے۔
جب جھادو نے آخری گیند پہ چوکا رسید کیا تو مشرفی مرتضیٰ کے چہرے پہ یکایک مایوسی سی آئی مگر پھر ان کی نظر سکور بورڈ پہ پڑی تو ایک دم یاسیت غائب ہو گئی اور ان کے ہاتھ اپنی ٹیم کی تحسین کے لیے بلند ہوئے۔
کیا یہ کم ہے کہ جو میچ بیس اوورز پہلے ختم ہو جانا تھا، یہ ٹیم اسے آخری گیند تک لے کر آئی تھی۔ گو یہ جیت نہیں تھی مگر پھر بھی ایک طرح سے یہ جیت ہی تھی۔








