ہیملٹن: گرینڈہوم کی جارحانہ بلے بازی، پاکستان کو مسلسل چوتھی شکست

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ نے کولن گرینڈہوم کی جارحانہ بلے بازی کی بدولت پاکستان کو چوتھے ایک روزہ کرکٹ میچ میں پانچ وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں چار صفر سے برتری حاصل کر لی ہے۔
پاکستان نے اس میچ میں میزبان ٹیم کو فتح کے لیے 263 رنز کا ہدف دیا جو اس نے 46ویں اوور میں حاصل کر لیا۔
ہیملٹن میں کھیلے جانے والے میچ میں نکولس اور آل راؤنڈر کولن ڈی گرینڈہوم کے درمیان چھٹی وکٹ کے لیے 109 رنز کی شراکت ہوئی جو فتح گر ثابت ہوئی۔
گرینڈہوم نے پانچ چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 25 گیندوں پر نصف سنچری بنائی۔ یہ ایک روزہ کرکٹ میں ان کی پہلی نصف سنچری ہے۔
ان کی اس اننگز نے نہ صرف نیوزی لینڈ کو دباؤ سے نکالا بلکہ میچ کا نقشہ بھی بدل دیا۔ انھیں 40 گیندوں پر 74 رنز کی اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نکولس نے بھی نصف سنچری بنائی اور 52 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے مارٹن گپٹل اور کولن منرو نے اننگز شروع کی اور وہی پراعتماد انداز اپنایا جس کا مظاہرہ وہ اس سیریز کے دوران کرتے آ رہے ہیں۔ان دونوں نے ٹیم کو 87 رنز کا آغاز فراہم کیا۔
منرو نے اس دوران نصف سنچری مکمل کی ہے جس میں آٹھ چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ پاکستان کو پہلی کامیابی 14ویں اوور میں ملی جب شاداب خان نے منرو کو حفیظ کے ہاتھوں کیچ کروا دیا۔ انھوں نے 56 رنز کی اننگز کھیلی۔
اپنے اگلے ہی اوور میں شاداب نے گپٹل کو بھی آؤٹ کر دیا۔ وہ 31 رن بنا سکے۔ 17ویں اوور میں رومان رئیس اپنا 200واں ون ڈے میچ کھیلنے والے راس ٹیلر کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کر کے پاکستان کو میچ میں واپس لے آئے۔
ٹام لیتھم نیوزی لینڈ کی چوتھی اور میچ میں شاداب کی تیسری وکٹ بنے۔ وہ آٹھ رنز بنا کر سلپ میں بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پانچویں وکٹ کے لیے نکولس اور ولیمسن کے درمیان 55 رنز کی اہم شراکت ہوئے جسے حارث سہیل نے توڑا۔ انھوں نے ولیمسن کو باؤنڈری پر رومان رئیس کے ہاتھوں کیچ کروا کے پاکستان کو اہم کامیابی دلوائی۔
پاکستانی اننگز
اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور مقررہ 50 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 262 رنز بنائے۔
پاکستان کو جہاں اننگز کے شروع میں فہیم اشرف اور بابر اعظم کی صورت میں جلدی نقصان اٹھانا پڑا وہیں محمد حفیظ،فخر زمان، حارث سہیل اور سرفراز احمد کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی وجہ سے وہ کسی حد تک قابل دفاع ہدف دینے میں کامیاب ہو سکا ہے۔
پاکستان کی جانب سے فخر زمان اور فہیم اشرف نے اوپننگ کی لیکن فہیم اشرف دوسرے اوور میں ایک رن بنا کر آؤٹ ہو گئے ہیں۔ فہیم اشرف کے بعد بابر اعظم کریز پر آئے لیکن چوتھے اوور میں وہ بھی تین رنز بنا کر آوٹ ہو گئے۔
مشکل حالات میں فخر زمان نے پاکستان کی بیٹنگ لائن کو سہارا دیا اور نصف سنچری سکور کی لیکن فخر بھی 54 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے جبکہ حارث سہیل نے بھی 50 رنز بنائے۔
شعیب ملک بھی صرف چھ رنز کا اضافہ کر سکے۔ شعیب ملک کے آؤٹ ہونے کے بعد سرفراز اور محمد حفیظ کے درمیان 98 رنز عمدہ شراکت داری قائم ہوئی۔ یہ شراکت داری اس وقت ختم ہوئی جب سرفراز اونچی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں 51 رنز پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سرفراز کے بعد حسن علی کریز پر آئے اور وہ بھی آتے ہی جارحانہ اننگز کھیلنے کی کوشش میں ایک رن پر باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد محمد حفیظ نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ شروع کی اور پہلی اننگز کی آخری گیند پر 81 رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔
چوتھے میچ میں پاکستان کی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی اور اظہر علی کی جگہ ٹیم میں حارث سہیل کو شامل کیا گیا ہے۔
پانچ میچوں کی اس سیریز میں نیوزی لینڈ کو پہلے ہی تین صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔
ویلنگٹن میں کھیلے گئے پہلے ایک روزہ میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو ڈک ورتھ لوئس طریقے کے تحت 61 رنز سے ہرایا تھا جبکہ بارش سے متاثرہ دوسرے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔
ڈنیڈن میں کھیلے جانے والے تیسرے میچ 183 رنز سے شکست پاکستان کا مقدر بنی تھی۔









