2017: کامیابیاں،تنازعات اور کھلاڑیوں کا احساس محرومی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سنہ 2017 پاکستان میں کھیلوں کے اعتبار سے خاصا ہنگامہ خیز رہا۔
گذشتہ کئی برسوں کی طرح اس سال بھی کرکٹ کا کھیل چھایا رہا۔ اس سال کی سب سے بڑی خبر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی چیمپئنز ٹرافی کی جیت تھی۔
یہ بھی پڑھیے
سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے فائنل میں روایتی حریف انڈیا کو آؤٹ کلاس کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان نے مصباح الحق کی قیادت میں ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر پہلی بار ٹیسٹ سیریز جیتی۔ اس جیت کے ساتھ ہی مصباح الحق اور یونس خان کے بین الاقوامی کریئر اپنے اختتام کو پہنچے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصباح الحق پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ جیتنے والے کپتان ہیں جبکہ یونس خان کو ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔
ان دونوں کے علاوہ شاہد آفریدی اور سعید اجمل نے بھی باضابطہ طور پر بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ دیا۔
پاکستان کو سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دونوں ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز ہارا۔
پاکستان نے اس سال پی ایس ایل فائنل اور انٹرنیشنل الیون کے میچوں کی میزبانی بھی کی جس کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کی جانب اہم قدم ہے۔
پاکستان سپر لیگ کے دوران سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا جس میں ملوث کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف پر پانچ پانچ سال کی پابندی عائد کر دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہاکی
قومی کھیل ہاکی میں مایوسی کے سائے دراز ہوتے چلے گئے۔
2017 میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے اگرچہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی ضرور کیا لیکن اپنی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ دوسری ٹیموں کی جانب سے جگہ خالی کیے جانے کے نتیجے میں۔
ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں پاکستانی ٹیم دس ٹیموں میں ساتویں نمبر پر آئی جبکہ ڈھاکہ میں کھیلے گئے ایشیا کپ میں انڈیا سے دو بار ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم تیسری پوزیشن ہی حاصل کرسکی۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی غیرمستقل پالیسی کے سبب ٹیم منیجمنٹ میں ردوبدل کا سلسلہ پورے سال جاری رہا۔
حنیف خان اور خواجہ جنید کو ان کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے فرحت خان کو ہیڈ کوچ بنایا گیا لیکن دو غیر ملکی دوروں کی انتہائی مایوس کن کارکردگی کے بعد انھوں نے بھی استعفیٰ دینے میں ہی عافیت سمجھی۔

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN BILLIARDS & SNOOKER ASSOCIATION
دیگر کھیل
ہاکی کی طرح سکواش میں بھی اب پاکستان کا نام لینے والا کوئی نہیں۔ اس سال ورلڈ ٹیم سکواش چیمپئن شپ میں پاکستان نے 24 ٹیموں میں 19ویں پوزیشن حاصل کی۔
فٹبال میں پاکستان پچھلے کئی برسوں سے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت سے قاصر ہے اس کی وجہ ملک میں سرکاری مداخلت اور فیڈریشن میں دھڑے بندی ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی رکنیت معطل کر دی۔
ان دونوں کھیلوں کے برعکس سنوکر میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اس سال ایک بار پھر متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
محمد آصف اور بابر محمد سجاد نے کرغزستان میں ایشیئن 6 ریڈ بال چیمپئن شپ جیتی جبکہ نسیم اختر 18 سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی عالمی چیمپئن شپ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم سنوکر کے ہی کھلاڑی حمزہ اکبر انھوں نے ایشیئن ٹائٹل جیتنے کے بعد پروفیشنل سرکٹ میں قسمت آزمائی بڑی امیدوں کے ساتھ شروع کی تھی لیکن مالی مشکلات کے سبب وہ ابھی تک اپنی منزل سے دور دکھائی دیتے ہیں۔
باکسنگ رنگ سے محمد وسیم کی جیت کی خبریں آتی رہیں لیکن وہ اپنوں کی جانب سے کیے گئے پرکشش وعدے پورے نہ کیے جانے پر خاصے برہم دکھائی دیے۔
یہی حال پہلوان انعام بٹ کا بھی ہے جنھوں نے اس سال ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپئن شپ میں ایرانی پہلوان کو زیر کرکے طلائی تمغہ جیتا اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں بھی کامیابیاں حاصل کیں لیکن وہ بھی سرکاری سرپرستی اور ٹریننگ کی ضروری سہولتیں نہ ہونے کے شاکی ہیں۔










