اپنے بولنگ ایکشن میں تبدیلی کے بعد اب 25 فیصد بولر بھی نہیں رہا: محمد حفیظ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ اپنے بولنگ ایکشن میں تبدیلی کے بعد اب وہ 25 فیصد بولر بھی نہیں رہے ہیں لیکن انھیں یقین ہے کہ وہ اپنے بائیو مکینک ٹیسٹ میں کامیاب ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن کے مشکوک ہونے کے بارے میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ابوظہبی میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل کے امپائرز نے رپورٹ کی تھی۔
اس سیریز کے ریفری زمبابوے کے اینڈی پائی کرافٹ ہیں جو اس وقت بھی آئی سی سی کے میچ ریفری تھے جب تین سال قبل محمد حفیظ کا بولنگ ایکشن رپورٹ ہوا تھا۔
اسی بارے میں مزید پڑھیں
محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن کا بائیو مکینک ٹیسٹ انگلینڈ کی لفبرا یونیورسٹی میں یکم نومبر کو ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں بار ایک ہی میچ ریفری کی موجودگی میں اپنے بولنگ ایکشن پر رپورٹ ہونے کے بارے میں محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ ان کے دماغ میں ایسی کوئی بات نہیں لیکن دکھ ضرور ہوتا ہے کہ جب آپ کے ساتھ ایسا کوئی سلسلہ منسلک ہو جائے۔
محمد حفیظ کے مطابق 'میں دس ماہ سے اسی تبدیل شدہ (ری ماڈل) بولنگ ایکشن کے ساتھ بولنگ کر رہا ہوں جس کا آغاز آسٹریلیا کے دورے سے ہوا اور پھر میں چیمپیئنز ٹرافی کھیلا۔ موجودہ سیریز کے صرف اس ایک میچ کے سوا جس میں میرے بولنگ ایکشن پر اعتراض ہوا کہیں بھی میرے بولنگ ایکشن کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہوا لہذا میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ میرے بولنگ ایکشن میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ میں جو بھی بولنگ کر رہا ہوں وہ نیچرل ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ میں نے جان بوجھ کر کسی ایک گیند کے لیے کچھ کیا ہو۔'
انھوں نے کہا کہ وہ ہر سیشن کے بعد ٹیم کے وڈیو اینالسٹ کے ساتھ بیٹھ کر اپنی ایک ایک گیند کا جائزہ لیتے ہیں اور اپنی بولنگ پرسخت محنت کرتے ہیں۔
پاکستانی آل راؤنڈر کے مطابق انھیں پریشانی اس لیے ہوئی ہے کہ وہ اسی بولنگ ایکشن کے ساتھ کھیلتے چلے آئے ہیں۔ سری لنکا کے خلاف موجودہ سیریز میں ان کی بولنگ میں بہتری بھی نظر آئی لیکن ساتھ ہی یہ مشکل بھی پیش آ گئی تاہم انھیں امید ہے کہ وہ بائیو مکینک ٹیسٹ میں اپنا بولنگ ایکشن کلیئر کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔









