جب حفیظ نے پہلا چوکا جڑا تو پاکستانی کیمپ میں مکمل اطمینان ہو گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
ٹی ٹوئنٹی میں 103 کا ہدف کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر دنیا کے پانچ بہترین بولرز کا اٹیک بھی سامنے ہو تو بھی یہ آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
جس دور میں ون ڈے کے اچھے بولر کی اکانومی بھی پانچ سے زیادہ ہو، وہاں ٹی ٹوئنٹی میں 120 گیندوں پہ 103 بنانے کے لیے کیا مہارت درکار ہو گی؟
لیکن سری لنکا نے پاورپلے میں رنز کا قحط پیدا کیا۔ اس بولنگ میں پاکستانی اٹیک کی سی انرجی نظر آئی، جہاں اول تو رنز ناپید ہو جاتے ہیں اور جب کوئی لائن سے آگے بڑھ کر اس جمود کو توڑنے لگتا ہے تو خود سے ہار جاتا ہے۔
فخر زمان پہلے اوور میں بال بال بچے۔ پھر بھی وہ چند ہی گیندوں بعد آؤٹ ہو گئے۔ وہ آؤٹ ہوئے نہیں، بلکہ انہیں اس کم مائیگی کے احساس میں آؤٹ ہونا پڑا جو سری لنکن اٹیک نے پاکستان کے سکورکارڈ پر طاری کر دی تھی۔
پہلی 30 گیندوں پر صرف 18 رنز بنے۔ اب تو ٹیسٹ میں بھی اس رن ریٹ کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے۔ جبکہ یہ ٹی ٹوئنٹی تھا اور بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی کے کامیاب ترین پلئیرز میں سے ہیں۔ وہ اننگز کو لے کے چلنے والے بیٹسمین ہیں لیکن پہلی30 گیندوں کے بعد انہیں بھی لائن کراس کرنا پڑی۔ فخر زمان کی طرح وہ بھی جلدبازی کی نذر ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہم اکثر سنتے ہیں کہ تجربے کا نعم البدل مہارت نہیں ہو سکتا۔ ایسا نہیں ہے کہ سری لنکا سنگاکارا اور جے وردھنے کے بعد بہت برے پلئیرز پیدا کرنے لگا ہے۔ بیٹسمین بھی آ رہے ہیں۔ بولر بھی اچھے آ رہے ہیں لیکن اس ڈریسنگ روم میں اس تجربے کی شدید کمی ہے جو دو ڈھائی سو انٹرنیشنل میچ کھیلنے کے بعد میسر آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے برعکس پاکستان کو یہ برتری ہے کہ اس کے ڈریسنگ روم میں دو تجربہ کار سابق کپتان موجود ہیں۔
شعیب ملک نے جہاں بھی کپتانی کی، ریکارڈ شاندار رہا. حفیظ نمبرون آل راؤنڈر ہیں، وہ بھی ایک ورلڈ کپ میں پاکستان کی قیادت کر چکے ہیں۔
جب کہ کم بیک کے بعد سے اب تک شعیب ملک کی بیٹنگ اوسط بھی قابل رشک ہے۔ سو جب ان دو تجربہ کار کرکٹرز کے گرد وہ جونیئرز کھیلتے ہیں جو انہی کریئرز کو دیکھتے ہوئے پروان چڑھے، تو ان سب میں ایک دوسرے سے بڑھ کر پرفارم کرنے کی بھوک ہوتی ہے۔
ڈریسنگ روم کے ماحول پہ ان کے اثر کا اندازہ یہاں سے کیجیے کہ تین ہفتے پہلے جو ٹیم ٹیسٹ میں کلین سویپ ہوئی تھی، صرف دو پلیئرز کے آنے سے ایسی پراعتماد ہو گئی ہے کہ ریکارڈ ٹوٹنے لگے ہیں۔
جس وقت شعیب ملک کریز پر آئے تو ان کی چال میں ایک اطمینان سا تھا حالانکہ کرکٹ میں انہونی ہوتے دیر نہیں لگتی۔ لو سکورنگ میچز کی خاصیت ہی یہ ہوتی ہے کہ ان میں بار بار حیرت کا سامنا ہوتا ہے۔ عین ممکن تھا کہ جہاں 30 گیندوں پر 18 سکور تھا اور دو آؤٹ تھے، وہاں 10 اوور بعد 30 پر چار آؤٹ ہو چکے ہوتے کیونکہ اس وکٹ پہ رسک لیے بغیر رنز کا حصول دشوار تھا۔
سری لنکا جس طرح کی بولنگ کر رہا تھا، اس نے فخر زمان اور بابر اعظم کے حواس کو آزمایا۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بارے میں مزید پڑھیے
لیکن جس وقت شعیب ملک نے بیک فٹ پہ جا کے پہلا لیٹ کٹ کھیلا، اسی وقت سری لنکا نے میچ پہ اپنی گرفت کھو دی۔ وہ اس وکٹ کے اعتبار سے عام شاٹ نہیں تھا، ماسٹر کلاس تھی. اس شاٹ نے نوآموز سری لنکن کیمپ کے اوسان خطا کر دیے۔
جس یقین کا مظاہرہ پاور پلے میں دیکھنے کو مل رہا تھا، وہ یکایک غائب ہو گیا اور رنز کا حصول آسان ہوتا چلا گیا۔ جب حفیظ نے پہلا چوکا جڑا تو پاکستانی کیمپ میں مکمل اطمینان ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بولنگ کے وقت جس وقت حفیظ اپنے پہلے اوور کے لیے آئے، سری لنکا اس پوزیشن میں تھا کہ 140 تک پہنچ جاتا لیکن پہلے ہی اوور میں دو وکٹیں لے کر انہوں نے آدھا میچ وہیں سمیٹ دیا۔
یہ ہے وہ تجربہ جو اس وقت سری لنکن کیمپ کو میسر نہیں ہے اور اس کا عملی ثبوت ان کی پچھلے ڈیڑھ سال کی پرفارمنس میں نظر آ رہا ہے۔
پاکستان کی خوش بختی یہ ہے کہ جہاں اسے تازہ قدم مل گئے ہیں، وہیں آزمودہ کندھے بھی ساتھ جڑ گئے ہیں۔
اس پہ مستزاد یہ کہ یہ دو تجربہ کار اذہان پاکستان کو اس مرحلے میں سنبھال رہے ہیں، جس سے گزرتے ہوئے اکثر نوجوان ٹیموں کا حال اس سری لنکن ٹیم سا ہو جاتا ہے۔











