ابوظہبی میں مشکوک شخص نے سرفراز سے رابطہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شارجہ
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ون ڈے سیریز کے دوران جس پاکستانی کرکٹر سے مبینہ طور پر کسی مشکوک شخص نے رابطہ کیا تھا وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد تھے۔
اس واقعے کے بعد ذرائع ابلاغ میں سرفراز احمد کا نام سامنے آیا تھا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے باضابطہ طور پر اس کرکٹر کے نام کی تصدیق نہیں کی تھی تاہم اب خود سرفراز احمد کی جانب سے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق ہو گئی ہے کہ مشکوک شخص نے جس کرکٹر سے رابطہ کیا تھا وہ کرکٹر وہ خود تھے۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ابوظہبی میں جمعرات کو ہونے والے پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سے قبل ہونے والی پریس کانفرنس میں سرفراز احمد سے سوال کیا گیا کہ اس واقعے کے بعد آپ کافی دباؤ کا شکار دکھائی دیے ہیں جس پر پاکستانی کپتان کا کہنا تھا۔ 'وہ چیز ہو گئی۔ میرا جو کام تھا وہ میں نے کر دیا لیکن بتانے کے بعد میں اتنا نہیں ڈرا تھا جتنا میں ٹی وی پر اپنے آپ کو دیکھ کر ڈر گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ٹی وی پر اتنا زیادہ ذکر ہوا کہ میں خود سے ڈر گیا تھا۔ جب آپ کھیل رہے ہوتے ہیں تو آپ کو بہت زیادہ سنجیدہ ہونا پڑتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب چیزیں نارمل ہوتی جا رہی ہیں اور میں بہتر سے بہتر ہوتا جا رہا ہوں۔'
پاکستان کرکٹ ٹیم کے بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ابوظہبی میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے سے ایک روز قبل 17 اکتوبر کو دبئی میں ٹیم کے ہوٹل کی لابی میں ایک شخص نے سرفراز احمد سے رابطہ کر کے انہیں مبینہ طور پر سپاٹ فکسنگ کی پیشکش کی تھی۔
سرفراز احمد نے فوری طور پر ٹیم منیجمنٹ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس واقعے کی رپورٹ کر دی تھی۔
اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے تصدیق کی تھی کہ سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک کھلاڑی سے مشکوک شخص نے رابطہ کیا تھا تاہم انھوں نے اس کھلاڑی کا نام نہیں بتایا ہے۔













