سی ایس ایس امتحانات میں ہندو نوجوانوں کی کامیابی: ایک کی والدہ کے زیورات بِک گئے، دوسرے نے سکھ گردوارے میں پناہ لی

،تصویر کا ذریعہKheem chand/Jeevan rebari
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
جیون ریباری اور کھیم چند جنڈوڑا ان 355 افراد میں سے ہیں، جو اس برس سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کے امتحانات میں کامیاب ہوئے ہیں۔
اس برس ملک بھر سے 12 ہزار 792 افراد نے سی ایس ایس کے امتحانات دیے تھے، جن میں سے صرف دو فیصد افراد ہی کامیاب ہو سکے۔ ان میں سے دستیاب آسامیوں اور قومی کوٹہ سسٹم کے تحت صرف 170 امیدواروں کو ہی ملازمتوں کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
ان افراد میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے جیون اور کھیم چند بھی شامل ہیں۔
ان دونوں کے لیے کامیابی کا راستہ آسان نہیں تھا۔ جہاں کھیم چند کے والدین کو بیٹے کی پڑھائی کے لیے بھاری سود پر قرضہ لینا پڑا اور زیورات فروخت کرنے پڑے، وہیں جیون نے وسائل کی کمی کے سبب ایک گُردوارے میں پناہ لی اور لنگر سے اپنی ضروریات پوری کیں۔
ان دونوں کا تعلق پاکستان کی ہندو برادری کے اقلیتی طبقے سے ہے۔
’برادری کا نام ہی پتھر کے برتن سے نکلا ہے‘
کھیم چند کی کامیابی کو سمجھنے کے لیے پہلے ’جنڈوڑا کمیونٹی‘ کو سمجھنا ضروری ہے۔
سندھی زبان میں ’جنڈ‘ اس بھاری پتھر کی چکی کو کہتے ہیں، جسے صدیوں سے لوگ ہاتھ سے گندم پیسنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
جنڈوڑا کمیونٹی یہ چکی چلاتی تھی اور آٹا بنا کر فروخت کرتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کھیم چند بتاتے ہیں کہ ’ہماری برادری کا نام ہی اس پتھر کے برتن (چکّی) سے نکلا ہے، نسلوں سے ہمارے لوگ زمین پر بیٹھ کر ہاتھ سے اناج پیستے رہے ہیں، بعد میں ہم تعمیراتی شعبے یعنی مزدوری کی طرف آ گئے۔‘
کھیم چند کے والد اس کمیونٹی کے پہلے ’انقلابی‘ تھے۔
کھیم چند کے مطابق ان کی برادری میں تعلیم حاصل کرنے کو بغاوت اور اپنے آبائی کام سے غداری سمجھا جاتا تھا لیکن ان کے والد نے پرائمری سکول ٹیچر بننے کی ’جرأت‘ کی۔ اسی جرأت نے کھیم چند کے لیے آگے کا راستہ ہموار کیا۔
کھیم چند نے سکول سے گریجویشن تک تعلیم سرکاری تعلیمی اداروں سے ہی حاصل کی۔ اُنھوں نے شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور سے گریجویشن کی اور اس کے بعد ماسٹرز کے لیے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں داخلہ لیا۔
اُنھوں نے بتایا کہ تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان کی والدہ نے اپنے زیورات فروخت کر دیے اور والد نے نجی بینکوں سے بھاری سود پر قرضے لیا۔

،تصویر کا ذریعہKheem chand
جیون ریباری: گاؤں سے گرودوارے تک
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جیون ریباری کا سفر بھی کھیم چند سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ بدین کے ایک چھوٹے سے قصبے نندو میں پیدا ہونے والے جیون کا بچپن آٹے کی اس چکی کے گرد گزرا جہاں ان کے والد یومیہ اجرت پر کام کرتے تھے۔
ان کی ریباری کمیونٹی بھی منفرد اور محدود کمیونٹی ہے، جو تھرپارکر کے علاقے ننگرپارکر، بدین اور میرپور خاص میں آباد ہے۔
ان کا کام مال مویشی پالنا تھا اور وہ ان کے چارے اور پانی کے لیے بستی بستی بھٹکتے تھے۔ حالات میں تبدیلی کے بعد اس برادری کے لوگوں نے مستقل رہائش کے لیے اپنے گاؤں بنا لیے لیکن اکثر تعلیم سے دُور ہی رہے۔
اس قبیلے کی کئی خواتین آج بھی سیاہ لباس پہنتی ہیں، جو سندھ کے حکمران دودو سومرو کی جنگ میں ہلاکت کے سوگ سے منسلک کیے جاتے ہیں۔
جیون ریباری کی پیدائش ضلع بدین کے ایک قصبے نندو میں ہوئی اور بعد میں ان کے والد انھیں کھوسکی قصبے لے گئے، جہاں سے ان کی بنیادی تعلیم کا آغاز ہوا۔
یونیورسٹی تک کی تعلیم انھوں نے سرکاری اداروں سے ہی حاصل کی۔ اُنھوں نے سندھ یونیورسٹی کے شعبہ قانون سے 2021 میں ایل ایل بی کیا تھا۔
’میں لاہور گیا اور وہاں سی ایس ایس کی تیاری شروع کی، میں نے سنہ 2023 میں پہلی کوشش کی جس میں ناکام رہا اور دو پرچوں میں فیل ہو گیا۔‘
’بعد ازاں میں نے سی ایس ایس سپیشل 2023 کا امتحان دیا جو میں نے پاس کر لیا اور مجھے آفس مینجمنٹ گروپ میں الاٹمنٹ ملی۔ پھر میں نے 2025 میں دوبارہ امتحان دیا، جس میں میں کامیاب ہوا اور مجھے پولیس سروس آف پاکستان میں بطور اے ایس پی الاٹمنٹ ملی۔‘
تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ ٹیوشن پڑھا کر اپنے اخراجات پورے کرتے تھے۔ لیکن جب لاہور میں وسائل ختم ہو گئے تو جیون کے پاس رہنے کے لیے چھت تک نہ تھی۔ پھر اُنھوں نے ایک گردوارے میں پناہ لی، جہاں سکھ برادری نے انھیں لنگر اور رہنے کی جگہ فراہم کی۔
جیون کی کامیابی اس لیے بھی خاص ہے کہ اُنھوں نے اقلیتی کوٹے کا سہارا نہیں لیا، بلکہ جنرل میرٹ پر ملک کے بہترین نجی تعلیمی اداروں کے امیدواروں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں صرف مخصوص نشست پر افسر نہیں بننا چاہتا تھا، میں ثابت کرنا چاہتا تھا کہ ریباری برادری کا بچہ ملک کے بہترین دماغوں کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہJeevan rebari
پولیس کا انتخاب کیوں؟
سی ایس ایس کے فارن سروس سے لے کر پوسٹ سروس تک 12 گروپس ہیں۔ سنہ 2022 کے نتائج آنے کے بعد راجندر مینگھواڑ پہلے ہندو پی ایس پی افسر بنے تھے۔
جیون ریباری اور کھیم چند جنڈوڑا کا پہلا آپشن بھی پولیس سروس ہی تھا۔
جیون ریباری کہتے ہیں کہ ’میرا تعلق ایک دیہی علاقے سے ہے جہاں سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہوتا ہے، میرا مقصد تھا کہ میں اس صورتحال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کروں۔‘
’میرے والد کی بھی خواہش تھی کہ میں یونیفارم سروس میں جاؤں۔ چکی پر جہاں وہ کام کرتے تھے، وہاں کشمور وغیرہ سے لوگ آتے تھے اور سابق آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن جیسے افسران کی تعریف کرتے تھے کہ اُنھوں نے علاقے میں امن و امان بہتر کیا۔ اسی سے مجھے بھی تحریک ملی کہ میں لوگوں کے لیے کچھ کروں، انصاف فراہم کروں اور مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘
جیون ریباری کہتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کی نمائندگی یونیفارم سروسز میں بہت کم ہے۔
سنہ 2021 میں راجندر کمار جب پہلے پی ایس پی افسر بنے، تو اس سے مجھے مزید حوصلہ ملا کہ میں بھی اس شعبے میں آؤں اور دوسروں کے لیے مثال بنوں۔
کھیم چند کے مطابق انھیں اپنی برادری میں ایک پہچان بنانی تھی، ’اس لیے میں نے پولیس گروپ کا انتخاب کیا تھا، میں سی ایس ایس سے پہلے سرکاری ٹیچر، تحصیلدار اور چیف میونسپل افسر کے امتحانات بھی پاس کرچکا ہوں۔‘
لیکن ان کا خواب پی ایس پی افسر بننا تھا۔
’گھر والوں سے لڑتا تھا کہ مجھے کھانا بھی لائبریری میں پہنچایا جائے‘

،تصویر کا ذریعہKheem chand
دونوں نوجوانوں نے لائبریری کو اپنی پناہ گاہ قرار دیا۔ کھیم چند کے لیے پہلے جی سی یونیورسٹی لاہور اور اس کے بعد سکرنڈ کی ٹاؤن کمیٹی لائبریری ان کا گھر بن گئی۔
بقول ان کے وہ گھر والوں سے لڑتے تھے کہ انھیں کھانا وہیں پہنچایا جائے تاکہ آنے جانے میں وقت ضائع نہ ہو۔
سی ایس ایس کا جب نتیجہ آیا تو کھیم چند کو یہ خوشی غم کے سائے میں ملی۔ ان کے والد بیٹے کے کندھوں پر اے ایس پی کے رینک نہ دیکھ سکے اور دو سال قبل چل بسے۔
’جب بھی کوئی مجھے مبارکباد دیتا ہے، میں انھیں ڈھونڈتا ہوں۔ لیکن میری ماں میرے ساتھ ہے اور میرا بھائی جس نے مجھے اپنا بینک اے ٹی ایم کارڈ تھما دیا تھا تاکہ میں فکر کے بغیر پڑھ سکوں وہی میری اس کامیابی کی اصل وجہ ہے۔‘
اقلیتی کوٹے کا چیلنج
مردم شماری 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندو پاکستان میں سب سے بڑی اقلیتی برادری ہیں، جو زیادہ تر صوبہ سندھ میں آباد ہیں۔
سنہ 2023 میں ان کی تعداد تقریباً 38 لاکھ تھی جبکہ مسیحی برادری دوسری بڑی اقلیت ہے، جو زیادہ تر پنجاب میں رہتی ہے اور ان کی آبادی تقریباً 33 لاکھ کے قریب ہے، فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے مطابق اقلیتوں کی 123 نشستیں خالی ہیں۔
جیون ریباری کہتے ہیں کہ سندھ کے شہری علاقوں میں اقلیتی کوٹے کی نشستیں اکثر خالی رہ جاتی ہیں کیونکہ بہت سے لوگ سرکاری ملازمت کے بجائے کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں۔

























