محمد شامی کی اہلیہ کی تصویر موضوعِ بحث

محمد شامی اور ان کی اہلیہ

،تصویر کا ذریعہTwitter

انڈیا کے معروف کرکٹ کھلاڑی اور فاسٹ بولر محمد شامی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے اور اس پر بھانت بھانت کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

اس تصویر میں ان کی اہلیہ حسین جہاں بھی ہیں اور سارا قضیہ ان کے لباس کے متعلق ہے۔ ویسے انڈیا میں لباس پر یہ کوئی نئی بحث نہیں ہے۔ اس سے قبل انڈیا کی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کے لباس پر بھی سوشل میڈیا میں بحث ہوئی تھی۔

واقعہ یہ ہے کہ محمد سمیع کے بعض مداحوں کو ان کی بیوی کا یہ لباس پسند نہیں آیا اور انھوں نے اسلام اور اللہ کا حوالہ دے کر انھیں اس سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔

سلمان انصاری نامی ایک شخص نے لکھا ہے: ’شرم کرو سر، آپ ایک مسلمان ہو، بیوی کو پردے میں رکھو اور کچھ سیکھو آملہ (ہاشم آملہ) علی (معین علی) سے اور بھی بہت ساروں سے۔‘

ٹوئٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنمحمد شامی کی تصویر پر گرما گرم بحث جاری ہے

محمد بلال رضوی نے لکھا ہے: ’شرم آنی چاہیے شامی، ایک دن مرنا ہے یہ مت بھولو، بیویوں کو کیسے رکھا جائے اپنے ساتھی کرکٹر پٹھان برادر سے سیکھو۔‘

بعض لوگوں نے یو یہاں تک پوچھ لیا کہ آپ کیا مسلمان ہیں تو بعض نے پوچھا کہ سنی ہیں یا شیعہ۔

تاہم کرکٹ اور دوسرے شعبوں سے منسلک زیادہ تر لوگوں نے ان کی اہلیہ کے لباس کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو سخت جواب دیا ہے۔

محمد کیف کا ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنمحمد کیف کا ٹویٹ

شامی کے ساتھی کرکٹر محمد کیف نے تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا: ’یہ تبصرے واقعی شرمناک ہیں۔ محمد شامی کی پوری طرح حمایت کرتے ہیں۔ اس ملک میں اور بھی بڑے مسائل ہیں۔ امید ہے کہ شعور کی جیت ہو گی۔‘

ان کے جواب میں معروف صحافی برکھا دت نے لکھا: 'واقعی؟ کیا یہ سچ ہے؟ یہ بہت شرمناک ہے۔ اس لیے نہیں کہ یہاں مزید بڑے مسائل ہیں بلکہ اس لیے کہ اس سے دوسروں کو سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بہت ہی گھٹیا بات ہے۔‘

اس کے علاوہ محمد شامی کی بیوی حسین جہاں اور ان کی بیٹی کی ایک دوسری تصویر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گيا ہے۔

شامی اپنی بچی اور اہلیہ کے ہمراہ

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنشامی نے ان تصاویر کو خوشگوار یادوں کے طور پر پیش کیا تھا

اتر پردیش کے امروہہ میں تین ستمبر سنہ 1990 کو پیدا ہونے والے محمد شامی گھٹنے میں چوٹ کے سبب انگلینڈ کے خلاف جنوری میں ہونے والی سیریز میں شامل نہیں کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل انھیں نیوزی لینڈ کے خلاف بھی پہلے تین ونڈے کے لیے آرام دیا گيا تھا۔