لیب خلائی سٹیشن سے جڑ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلاءبازوں کی ایک ٹیم نے ایک ارب ڈالر مالیت کی جاپانی تجربہ گاہ بین الاقوامی خلائی مرکز سے جوڑ دی ہے۔ اکی ہیکو ہوشیڈے اور کیرن نائیبرگ نامی خلا نوردوں نے بین الاقوامی خلائی مرکز کے مشینی بازو کی مدد سے یہ تجربہ گاہ نصب کی۔ اس تجربہ گاہ کی تنصیب کے لیے تیاریاں چھ ماہ سے جاری تھیں اور یہ خلائی سٹیشن کا سب سے بڑا کمرہ ہوگی جہاں ’بایو میڈیسن‘ اور ’میٹیریل سائنسز‘ کے شعبوں میں تحقیق کی جائے گی۔ پندرہ ٹن وزنی کیبو نامی تجربہ گاہ خلائی شٹل ڈسکوری کی مدد سے خلاء میں پہنچائی گئی ہے جو دو دن کے سفر کے بعد بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر پہنچی ہے۔ خلائی شٹل جاپانی لیبارٹری کے علاوہ خلائی سٹیشن کے ٹوائلٹ کے لیے نیا پمپ بھی لے کر گئی ہے۔ کیبو تجربہ گاہ حجم میں ایک بس کے برابر ہے اور اسی وجہ سے اسے تین ٹکڑوں میں خلاء میں پہنچایا گیا ہے۔ کیبو خلائی سٹیشن سے جوڑی جانے والی تیسری تجربہ گاہ ہے۔ اس سے قبل امریکی تجربہ گاہ ڈیسٹنی اور یورپی تجربہ گاہ کولمبس بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے جڑی ہوئی ہیں۔ | اسی بارے میں ناسا شٹل خلاء کے لیے روانہ02 June, 2008 | نیٹ سائنس یورپی مشن کے بعد اب امریکی شٹل11 March, 2008 | نیٹ سائنس خلائی شٹل ایٹلانٹس کی واپسی23 June, 2007 | نیٹ سائنس ڈسکوری سے فوم ٹکرایا ہوگا: ناسا29 July, 2005 | نیٹ سائنس خلائی شٹل کی روانگی پھر موخر14 July, 2005 | نیٹ سائنس خلائی شٹل بار میں خرابی12 July, 2005 | نیٹ سائنس ڈسکوری خلا میں جانے کے لیے تیار01 July, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||