یورپی مشن کے بعد اب امریکی شٹل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی ایک خلائی شٹل زمین سے ساز و سامان اور آلات لے کر منگل کے روز بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے روانہ ہو رہی ہے۔ یہ شٹل جس کا نام ’اینڈیور‘ ہے سولہ روز تک خلاء میں قیام کرے گی۔ اس شٹل میں عملے کے سات ارکان بھی ہوں گے جو خلائی جہاز کے مدار کے باہر مرمت کے کام کے لیے دو بازؤں والا ایک روبوٹ بھی اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں جسے خلائی سٹیشن پر پہنچ کر نصب کیا جائے گا۔ یہ شٹل گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق منگل کی صبح چھ بجکر اٹھائیس منٹ پر فلوریڈا میں واقع کینیڈی سپیس سٹیشن سے روانہ ہوگی۔ ’اینڈیور‘ نامی اس شٹل نے سنہ انیس سو بانوے میں اپنا پہلا مشن مکمل کیا تھا اور خیال ہے کہ اس بار یہ بارہ دن تک بین الاقوامی خلائی سٹیشن میں قیام پذیر رہے گی۔ اس دوران شٹل کا عملہ عالمی خلائی سٹیشن پر واقع جاپانی لیبارٹری ’کیبو‘ میں ساز و سامان اور آلات اتارے گا۔ اس لیبارٹری میں تین افراد کام کرتے ہیں۔ جاپانی زبان میں کیبو کے لغوی معانی ’امید‘ کے ہیں۔ خلائی عملہ عالمی سٹیشن کی کرین میں روبوٹک بازو بھی نصب کرے گا جن میں سے ہر ایک کی لمبائی تقریباً گیارہ فٹ ہے۔ یہ بازو ٹیلی فون بوتھ کی فٹنگ اور سروسر جیسے بڑے کام سے لیکر ٹیلیفون نمبروں کی کتاب جیسے چھوٹے چھوٹے کام کر سکتے ہیں۔ خلا نورد کا یہ بھی ارادہ ہے کہ وہ حرارت روکنے والی مرمتی تکنیک کی بھی آزمائش کریں گے جو سنہ دو ہزار تین میں کولمبیا کے حادثے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جب ’اینڈیور‘ خلائی سٹیشن سے واپس ہوگی تو یورپ کا پہلا مشن یعنی کارگو شپ بین الاقوامی سٹیشن پر اترے گا۔ یہ شپ فرانس سے سنیچر کو روانہ ہوا تھا اور شٹل کے سفر کے دوران خلائی سٹیشن کے قریب مدار میں گردش کرتا رہے گا۔ | اسی بارے میں اٹلانٹس خلاء کے لیے روانہ08 February, 2008 | نیٹ سائنس خلائی کمپیوٹر میں نقص، تحقیقات27 July, 2007 | نیٹ سائنس مریخ پر ناسا کا نیا خلائی مشن04 August, 2007 | نیٹ سائنس طوفان کا خطرہ، شٹل کی واپسی21 August, 2007 | نیٹ سائنس ناسا کے نئے آٹھ سالہ مشن کا آغاز28 September, 2007 | نیٹ سائنس انسان کبھی مریخ پر جا سکے گا؟07 October, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||