اٹلانٹس خلاء کے لیے روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے کینیڈی کے خلائی مرکز سے خلائی طیارہ اٹلانٹس کامیابی سے فضا کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ اٹلانٹس طیارے کو یورپ کی کولمبس نامی خلائی تحقیقاتی لیباٹری کو بین الاقوامی سپیس سٹیشن پر پہنچانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ موسم کی خرابی کے باعث خدشات ظاہر کیئے جا رہے تھے کہ بادلوں، متوقع بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے شاید اٹلانٹس کی روانگی مؤخر ہو جائے لیکن ٹھیک وقت پر مطلع صاف ہو گیا جس کی وجہ سے اٹلانٹس کی روانگی میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ کولمبس نامی لیباٹری کو خلاء میں گردش کرتے ہوئے پیلٹ فارم پر سائنسی تجربات میں یورپ کی سب سے بڑی کاوش تصور کیا جا رہا ہے۔ یورپ کے خلائی ادارے پورپین سپیس ایجنسی کے چیف جان ژاک
جان ژاک اس موقعے پر بہت خوش نظر آ رہے تھے اور انہوں نے اسے یورپی خلائی ادارے کی ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کولمبس نے ایک برے اعظم دریافت کیا تھا اور کولمبس کے ذریعے وہ ایک بالکل نئی دنیا دریافت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کولمبس کے بین الاقوامی خلائی پلیٹ فارم پر پہنچنے سے یورپی خلائی ادارہ اس خلائی منصوبے کا ایک واضح اور اہم رکن بن گیا ہے۔ کولمبس کو یورپ کا خلائی ادراہ جرمنی میں اپنے زمینی مرکز سے کنٹرول کرے گا۔ کولمبس کے خلائی پلیٹ فارم سے لگنے سے یورپ کا خلائی ادارہ اس منصوبے کا اہم رکن بن جائے گا جس سے اس پلیٹ فارم پر یورپی خلاء نوردوں کے لیے جگہ حاصل کرنے کا حق بھی مل جائے گا۔ اس حق کے حاصل ہونے سے یورپی کے خلاء بلازوں کو ہر دو سال بعد چھ مہنیے کے لیے اس پلیٹ فارم پر رہنے اور تحقیق کرنے کا موقع ملے گا۔ بین الاقوامی سپیس پیلٹ فارم پر ایک عشاریہ تین ارب یور کی مالیت سے تیارہ کردہ خلائی لیباٹری کولمبس کے لگنے کے بعد بے وزنی کی کیفیت میں سائنسی تحقیق کا کام شروع کیا جا سکے گا۔ اس تحقیق سے انتہائی مختلف شعبوں میں مدد ملے گی جن میں زراعت سے لے کر نئی دھاتیں بنانے تک کا کام شامل ہے۔
اس تجربے سے خلاء میں انسان کے طویل عرصے تک قیام سے اس کی نفسیات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے میں بھی مدد لے گی جو آگے چل کر چاند پر انسانی قیام اور مریخ کے سفر جیسے منصوبوں میں بہت کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ کولمبس کو اٹلانٹس کے خلاء میں جانے کے موجودہ مشن کے چوتھے روز بین الاقوامی پلیٹ فارم پر لگائے گا۔ کولمبس لیباٹری سات میٹر لمبی، ساڑھے چار میٹر چوڑی اور بارہ اعشاریہ آٹھ ٹن وزنی ہے اور اسے اٹلانٹس کے ایک مشینی ہاتھ کے ذریعے سپیس سٹیشن کے ’ہارمنی موڈ کنکٹر‘ سے لگایا جائے گا۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والے یورپی خلائی ادارے کے خلاء باز ہانس شلیگل اس سارے عمل میں اہم کردار ادا کریں گے اور اس دوران وہ دو مرتبہ خلائی اسٹیشن پر چہل قدمی بھی کریں گے۔ کولمبس کے مکمل طور پر کام شروع کرنے تک پورپی خلائی ادارے آئی ایس اے کے ایک اور خلاء باز لیوپالڈ ایہارٹس خلائی پیلٹ فارم پر قیام کریں گے اور سارے عمل میں چند ہفتے تک لگ سکتے ہیں۔ اٹلانٹس کی خلاء میں روانگی امریکی خلائی ادارے ناسا کے لیے ایک بہت اطمینان بخش دن تھا کیونکہ اس سے قبل دسمبر میں خلائی طیارے کو ایندھن مہیا کرنے والے حصہ میں نصب ایک سنسر میں خرابی کا پتا لگنے کے بعد اس کی روانگی مؤخر کر دی گئی تھی۔ اٹلاٹنسی کی روانگی سے قبل کینیڈی سپیس سٹیشن کے شمال مغربی علاقے میں طوفانی موسم کے باعت اس کی روانگی کو ایک مرتبہ پھر مؤخر کرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ خلائی طیارے کی روانگی سے صرف پندرہ منٹ پہلے تک اتنی تیز ہوائیں چل رہی تھیں جن میں اس کی روانگی ممکن نہیں تھی لیکن اچانک ہواؤں کی شدت میں کمی واقع ہو گئی۔ خلائی طیارے کی روانگی کے بعد اس کی ابتدائی تصاویر میں اس بائیں حصے کی ایندھن کی ٹینکیوں سے فوم سا گرتا دکھائی دیا لیکن انہیں خلائی طیارے میں کس قسم کی خرابی تصور نہیں کیا جا رہا۔ اٹلانٹس پر موجود خلاء باز بھی اس کے بیرونی حصہ کا جائزہ لیں گے اور طیارے کے صحیح ہونے کے بارے میں اپنی رپورٹ دیں گے۔ ناسا اٹلانٹس کی روانگی کے بارے میں پورے اعتماد سے کہہ سکتی ہے کہ اب اس نے خلاء میں سفر پر جانے کا ایک بااعتبار اور محفوظ نظام بنا لیا ہے۔ اس سال ناسا خلاء میں پانچ اور مشن روانہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں سے چار بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر بھیجے جائیں گے اور ایک ہبل کی خلائی دوربین کو ٹھیک کرنے کے لیے بھیجا جائے گا۔ کولمبس کے بعد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو مکمل پر چلاؤ کرنے کے لیے گیارہ اور خلائی مشن روانہ کرنے پڑیں گے۔ ناسا کو یقین ہے کہ یہ ہدف سن دو ہزار دس سے پہلے حاصل کر لیا جائے گا۔ سن دو ہزار دس وہ تاریخ ہے جو ناسا نے خلائی طیاروں کو ناکارہ قرار دینے کے لیے مقرر کی ہے۔ اٹلانٹس طیارہ ہفتے کو خلائی اسٹیشن پر پہنچے گا اور پیر اٹھارہ فروری کو زمین پر واپس آ جائے گا۔ اٹلانٹس طیارہ واپسی پر امریکی خلاء باز ڈین تانی کو جو طویل عرصے سے خلائی پیلٹ پر مقیم ہیں زمین پر لے کر آئے گا۔ | اسی بارے میں خلائی کمپیوٹر میں نقص، تحقیقات27 July, 2007 | نیٹ سائنس مریخ پر ناسا کا نیا خلائی مشن04 August, 2007 | نیٹ سائنس خلائی شٹل کی مرمت واپسی پر17 August, 2007 | نیٹ سائنس طوفان کا خطرہ، شٹل کی واپسی21 August, 2007 | نیٹ سائنس ناسا کے نئے آٹھ سالہ مشن کا آغاز28 September, 2007 | نیٹ سائنس انسان کبھی مریخ پر جا سکے گا؟07 October, 2007 | نیٹ سائنس ایٹلانٹس کی روانگی میں تاخیر07 December, 2007 | نیٹ سائنس عطارد پر آتش فشانی کا انکشاف31 January, 2008 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||