عطارد پر آتش فشانی کا انکشاف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناسا کے ایک خلائی جہاز نے سیارہ عطارد کی سطح پر ’بڑے پیمانے پر‘ آتش فشانی کے آثار دریافت کیے ہیں۔ اس سے قبل ستر کی دہائی میں ’میرینر ٹین‘ نے عطارد پر آتش فشانی کے حوالے سے مبہم شواہد فراہم کیے تھے۔ امریکی خلائی جہاز ’مرکری میسنجر‘ چودہ جنوری کو سورج کے قریب ترین واقع سیارے کے پاس سے گزرا تھا اور اس نے عطارد کی اس تیس فیصد سطح کا جائزہ لیا ہے جو اس سے قبل نہیں دیکھی گئی تھی۔ ماضی میں عطارد کی صرف پینتالیس فیصد سطح کا جائزہ لیا جا سکا تھا اور اب اس جہاز کے جائزے سے یہ شرح پچھہتر فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ میسنجر کے چیف سائنسدان ڈاکٹر شان سولومن نے کہا ہے کہ ’عطارد کے پاس سے گزرنے کے دوران ہم نے اس سیارے کے وہ حصے دیکھے جو پہلے نہیں دیکھے تھے اور یہ جہاز نہایت قیمتی معلومات لے کر آیا ہے‘۔ آتش فشانی کے شواہد کے متعلق مشن کے سائنسدان لوئس پراکٹر نے کہا ’ہماری ٹیم کو کوئی شک نہیں ہے کہ سیارے پر وسیع پیمانے پر آتش فشانی کے آثار ہیں‘۔ خلائی جہاز نے اپنے سفر میں سیارے پر ایسےانوکھے خدو خال بھی دیکھے جنہیں سائنسدانوں نے سپائیڈر یعنی مکڑی کا نام دیا ہے۔ اس سے قبل ایسے خد و خال نہ تو عطارد پر دیکھے گئے ہیں اور نہ ہی چاند پر۔ یہ انوکھے خود خال یک بڑے گڑھے کے درمیان پائے گئے ہیں جسے کلورس بیسن کہا جاتا ہے۔ ایریزونا یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ سٹروم کا کہنا ہے کہ ’سپائیڈر‘ کو سیاروں میں آتش فشانی کی تاریخ سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں سپٹنک کی پچاسویں سالگرہ04 October, 2007 | نیٹ سائنس انسان کبھی مریخ پر جا سکے گا؟07 October, 2007 | نیٹ سائنس زہرہ پر کبھی پانی کے سمندر تھے29 November, 2007 | نیٹ سائنس بلیک ہول ذرّے، کہکشاں سے ٹکراؤ18 December, 2007 | نیٹ سائنس مریخ پر ’متحرک گلیشیئر‘ دریافت20 December, 2007 | نیٹ سائنس ایک نئے سیارے کی دریافت03 January, 2008 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||