BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپٹنک کی پچاسویں سالگرہ

 سپٹنک
سپٹنک کی روانگی انسانی تاریخ کا نہایت اہم موڑ تھا
خلائی دور کے آغاز کی پچاسویں سالگرہ کے سلسلے میں روس میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔انیس سو ستاون میں انسان کا بنایا ہوا پہلا سیارہ سپٹنک سابق سویت یونین نے خلاء میں بھیجا تھا۔

سپٹنک کی خلاء میں روانگی کو انسانی تاریخ کا نہایت اہم موڑ تسلیم کیا جاتا ہے اور یہی وہ واقعہ تھا جس سے امریکہ اور سویت یونین کے درمیان خلائی دوڑ کا آغاز ہوا اور بالآخر انسان چاند پر اترنے میں کامیاب ہوا۔

کئی برس خلائی دوڑ میں زوال کا شکار رہنے کے بعد اب روس ایک مرتبہ پھر بڑے عزائم کے ساتھ اس میدان میں آ گیا ہے۔

خلاء کی جانب سپٹنک کی کامیاب پرواز انسانی نسل کے لیے ایک عظیم چھلانگ تھی اور سرد جنگ کے دور میں یہ سویت یونین کے لیے پروپیگنڈے کا بڑا ہتھیار ثابت ہوئی تھی۔

اس رات جب دنیا بھر میں لوگ پھٹی آنکھوں سے آسمان پر اس ننھے سیارے کی ایک جھلک دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے تو ایک احساس بڑا واضح تھا کہ انسانی زندگی میں ایک بڑی بنیادی تبدیلی آ چکی ہے۔

خطیر بجٹ
 طویل عرصے تک روبہ زوال رہنے کے بعد روس کے خلائی پروگرام میں جان آ گئی ہے اور اس سے منسلک سائنسدانوں اور خلاء بازوں کو حکومت نے خطیر بجٹ فراہم کیا ہے۔ انہیں اگلے دس سال کے دوران خرچ کرنے کے لیے بارہ ارب ڈالر دیے گئے ہیں

روس کے خلائی پروگرام کے ایک ماہر یوری کراش کے الفاظ میں ’ سپٹنک کی خلاء میں روانگی نسل انسانی کے لیے اتنی ہی اہم تھی جتنی کولمبس کے لیے امریکہ دریافت کرنا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ سپٹنک کے کامیاب سفر سے انسان نے اپنی حدوں کو زمین سے آگے پھیلانا شروع کر دیا تھا۔‘

سپٹنک کے بعد سویت یونین کی خلاء میں کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہا جنکا بڑا محرک روس اور امریکہ کے درمیان خلاء میں سبقت لے جانے کے دوڑ تھی۔ اس دوڑ میں پہلے انسان یعنی یوری گیگرن کا خلاء میں جانا اور وہاں چہل قدمی کرنا شامل تھا۔

ایک طویل عرصے تک روبہ زوال رہنے کے بعد روس کے خلائی پروگرام میں جان آ گئی ہے اور اس سے منسلک سائنسدانوں اور خلاء بازوں کو حکومت نے خطیر بجٹ فراہم کیا ہے۔ انہیں اگلے دس سال کے دوران خرچ کرنے کے لیے بارہ ارب ڈالر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ رقم امریکی خلائی ادارے ناسا کے بجٹ کے مقابلے میں بہت کم ہے لیکن یہ روسی سائندانوں کے لیے قدرے بڑے منصوبے بنانے کے لیے کافی ہے۔

چاندگھر بنائیں یا نہ بنائیں
چاند پر برف کے ذخائر کے بارے میں شکوک
ایکسو پلینٹخلاء میں بخارات
نظام شمسی سے باہر پانی کے شواہد ملے ہیں
مریخ کا سفر
خلائی سفر کے تجربے کے لیے رضاکار درکار
مریخ کے قُرب میں
خلائی جہاز مریخ سے250 کلومیٹر دوری پر
پھولا سیارہ
ماہرینِ فلکیات کے لیے نئے سوال لے کر آیا ہے
سب سے بڑا سیارہنئی دریافت
نظامِ شمسی سے باہر سب سے بڑا سیارہ
مریخ کے مدار تک
خلائی جہاز مریخ کے مدار میں پہنچ گیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد