رچرڈ گیلپن بی بی سی نیوز، ماسکو |  |
 | | | سپٹنک کی روانگی انسانی تاریخ کا نہایت اہم موڑ تھا |
خلائی دور کے آغاز کی پچاسویں سالگرہ کے سلسلے میں روس میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔انیس سو ستاون میں انسان کا بنایا ہوا پہلا سیارہ سپٹنک سابق سویت یونین نے خلاء میں بھیجا تھا۔ سپٹنک کی خلاء میں روانگی کو انسانی تاریخ کا نہایت اہم موڑ تسلیم کیا جاتا ہے اور یہی وہ واقعہ تھا جس سے امریکہ اور سویت یونین کے درمیان خلائی دوڑ کا آغاز ہوا اور بالآخر انسان چاند پر اترنے میں کامیاب ہوا۔ کئی برس خلائی دوڑ میں زوال کا شکار رہنے کے بعد اب روس ایک مرتبہ پھر بڑے عزائم کے ساتھ اس میدان میں آ گیا ہے۔ خلاء کی جانب سپٹنک کی کامیاب پرواز انسانی نسل کے لیے ایک عظیم چھلانگ تھی اور سرد جنگ کے دور میں یہ سویت یونین کے لیے پروپیگنڈے کا بڑا ہتھیار ثابت ہوئی تھی۔ اس رات جب دنیا بھر میں لوگ پھٹی آنکھوں سے آسمان پر اس ننھے سیارے کی ایک جھلک دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے تو ایک احساس بڑا واضح تھا کہ انسانی زندگی میں ایک بڑی بنیادی تبدیلی آ چکی ہے۔
 | خطیر بجٹ  طویل عرصے تک روبہ زوال رہنے کے بعد روس کے خلائی پروگرام میں جان آ گئی ہے اور اس سے منسلک سائنسدانوں اور خلاء بازوں کو حکومت نے خطیر بجٹ فراہم کیا ہے۔ انہیں اگلے دس سال کے دوران خرچ کرنے کے لیے بارہ ارب ڈالر دیے گئے ہیں  |
روس کے خلائی پروگرام کے ایک ماہر یوری کراش کے الفاظ میں ’ سپٹنک کی خلاء میں روانگی نسل انسانی کے لیے اتنی ہی اہم تھی جتنی کولمبس کے لیے امریکہ دریافت کرنا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ سپٹنک کے کامیاب سفر سے انسان نے اپنی حدوں کو زمین سے آگے پھیلانا شروع کر دیا تھا۔‘ سپٹنک کے بعد سویت یونین کی خلاء میں کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہا جنکا بڑا محرک روس اور امریکہ کے درمیان خلاء میں سبقت لے جانے کے دوڑ تھی۔ اس دوڑ میں پہلے انسان یعنی یوری گیگرن کا خلاء میں جانا اور وہاں چہل قدمی کرنا شامل تھا۔ ایک طویل عرصے تک روبہ زوال رہنے کے بعد روس کے خلائی پروگرام میں جان آ گئی ہے اور اس سے منسلک سائنسدانوں اور خلاء بازوں کو حکومت نے خطیر بجٹ فراہم کیا ہے۔ انہیں اگلے دس سال کے دوران خرچ کرنے کے لیے بارہ ارب ڈالر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ رقم امریکی خلائی ادارے ناسا کے بجٹ کے مقابلے میں بہت کم ہے لیکن یہ روسی سائندانوں کے لیے قدرے بڑے منصوبے بنانے کے لیے کافی ہے۔
|