BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 September, 2006, 19:10 GMT 00:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پھولا ہوا سیارہ ایک نیا معمہ ہے
یہ ایک مصور کا بنایا ہوا اس نئی دریافت کا نمونہ ہے
ماہرین فلکیات نے ایسی نئی دنیا دریافت کی ہے جس نے انہیں دوبارہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ایک سیارے میں کیا کیا خصوصیات ہونی چاہیں۔

اس نئی دریافت کو ’ایچ اے ٹی- پی- ون‘ کا نام دیا گیا ہے جو ستاروں کے جھرمٹ میں ان ستاروں کے جوڑے میں سے ایک ہے جو 450 نوری برسوں کے فاصلے پر ہیں۔

’ایچ اے ٹی- پی- ون‘ کا قطر نظام شمسی کے سیارے عطارد کے قطر سے ایک اعشاریہ تین آٹھ گنا زیادہ ہے لیکن اس کا حجم عطارو کے مقابلے میں آدھا ہے۔اور یہ چیز اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ باقی دریافت ہونے والے سیاروں سے بہت بڑا ہے لیکن کثافت میں ان سے کم ہے۔ اس بات سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر کار یہ بنا کیسے۔ یہ سیارہ ریاضی کے ان فارمولوں پر پورا نہیں اترتا جن کے زریعے سیاروں کی ساخت بیان کی جاتی ہے۔

علمِ فلکیات کے لیے بنایا گئے ہاورڈ سمتھسونین سینٹر (سی ایف اے) سے وابسطہ گیسپر بیکوس کا کہنا ہے کہ ’اس سیارے کی کثافت پانی کی کثافت کے مقابلے میں ایک تہائی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا وزن کاک کے دیوہیکل بال سے بھی کم ہے۔ یہ نظاِم شمسی کے سیارے زحل کی طرح ہے۔ اگر آپ کو پانی کا ایک بہت بڑا ٹب ملے اور آپ اس سیارے کو اس میں تیرنے کے لیے چھوڑ دیں تو یہ تیرتا رہے گا لیکن زحل کے مقابلے میں تقریبًا تین درجے اوپر تیرے گا۔

’ایچ اے ٹی- پی- ون‘ ان تقریبًا 200 سیاروں میں سے ایک ہے جنہیں اضافی شمسی اجسام کے علاوہ دریافت کیا گیا ہے۔ اور اس کا قطر اب تک دریافت ہونے والے سیاروں میں سب سے بڑا ہے۔

اضافی شمسی اجسام کی طرح اس سیارے مدار بھی اس ستارے سے بہت نزدیک ہے جس کے قریب یہ گھومتا ہے اور اس کا ایک چکر زمین کے ساڑھے چار چکروں کے برابر ہے۔

’ایچ اے ٹی- پی- ون‘ ہم سے اتنا دور ہے کہ اس کے بارے میں تصور کرنا بھی بہت مشکل ہے لیکن سائنسدانوں کو یقین ہے کہ یہ موجود ہے جیسا کہ جس ستارے کے گرد یہ گھومتا ہے جب اس کے سامنے سے گزرتا ہے تو اس سے آنے والی روشنی کم ہو جاتی ہے اور وہ ماند پڑ جاتا ہے۔

سی ایف اے کی تحقیقاتی ٹیم جس نے اس سیارے کی دریافت پر تحقیقی مقالہ علمِ فلکیات کے جریدے میں پیش کیا ہے کہتی ہے کہ اس سیارے کے معمے کو سلجھانے کے لیے کافی خیالات پیش کیے گئے ہیں لیکن ان میں سے ابھی تک کوئی بھی مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترا۔

ایک محقق کا کہنا ہے کہ جب تک ’ ان دونوں پھولے ہوئے سیاروں کی کوئی توجیح نہیں حاصل کر لی جاتی اس وقت تک یہ چیزیں ایک اسرار ہی رہیں گی‘۔

ماہرین فلکیات نے ایرزونا اور ہوائی کی ریاستوں میں دور بینوں کا ایک نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے ان سیاروں کو دریافت کیا ہے۔

اسی بارے میں
بدلتی دنیا کا نقشہ جاری
04 June, 2005 | نیٹ سائنس
خلائی جہاز مریخ کے مدار میں
11 March, 2006 | نیٹ سائنس
مریخ کا روبوٹ مزید خود کار
29 May, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد