بدلتی دنیا کا نقشہ جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماحول کے عالمی دن کے موقعہ پر اقوام متحدہ نے ایک نئی ’اٹلس‘ شائع کی ہے جس کے مطابق گزشہ ایک دہائی میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے کرّہ ارض پر زبردست اور ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ عالمی نقشوں کی اس کتاب میں مصنوعی سیاروں سے دس سال پہلے لی گی دنیا کی تصاویر کا آج کی دنیا سے موازنہ کیا گیا ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ دنیا صرف گزشتہ دس سالوں میں کس قدر تبدیل ہو گئی ہے۔ جنگلوں کے کٹاؤ، موسمیاتی تغیرات اور شہروں کے پھلاؤ سے دنیا کے کچھ حصوں میں زبردست تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ تازہ ترین نقشوں کی اس کتاب میں پہاڑوں پر اور قطبین میں برف کے پگھلنے، جنوبی امریکہ کے جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور جنوبی افریقہ کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو بھی آشکار ہوئی ہیں۔ ان تبدیلیوں میں ہسپانیہ کے جنوبی علاقوں میں سبزے میں اضافہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں جھینگوں کی افزائش اور چین کے سب سے بڑے دریا یئلو ریور میں پیدا ہونے والے ایک بڑے سے جزیرے کا بھی پتا چلا ہے۔ اس سال ماحول کے عالمی دن کے موقعہ پر سان فرانسسکو کیلیفورنیا میں ہونے والی تقریب میں اس مسئلہ پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ شہروں کو کس طرح ماحول کے لیے ساز گار اور وسائل کے موثر استعمال کے قابل بنایا جائے۔ شہروں میں قدرتی وسائل جن میں پانی، لکڑی اور معدنیات شامل کی ایک کثیر تعداد استعمال ہوتی ہے اور شہروں سےگھریلو اور صنعتی فضلہ بڑی مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انیس سو بہتر میں سٹاک ہوم کانفرنس کے افتتاح کے موقعہ پر ہر سال ماحول کا عالمی دن مننانے کا فیصلہ کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||