BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 July, 2007, 09:34 GMT 14:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خلاء میں پانی کے بخارات دریافت
ایکسو پلینٹ
خلاء میں پانی شاید اتنا کمیاب نہ ہو جتنا عموماً سمجھا جاتا ہے: سائنسدان
خلاء بازوں نے ہمارے نظام شمسی سے باہر ایک سیارے کی فضاء میں پانی کے بخارات دریافت کیے ہیں۔

جریدے سائنس میں شائع ہونے ایک رپورٹ کے مطابق ناسا کی نہایت طاقتور سپٹزر خلائی دوربین کی مدد سے یہ بخارات جس سیارے کی فضاء میں دریافت ہوئے ہیں اسے ’ایچ ڈی 189733 بی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ نظام شمسی سے باہر کسی سیارے یا ’ایکسو پلینٹ‘ پر پانی دریافت ہوا ہے۔

کچھ سائنسدانوں کے خیال میں، ہو سکتا ہے کہ پانی کی موجودگی دراصل ان تمام سیاروں کا خاصہ ہو جن کے ارد گرد بہت سی گیسیں پائی جاتی ہیں، جیسے ہمارے نظام شمسی کے جوپیٹر، زحل، مشتری اور نیپچون کے سیارے ہیں۔

ایچ ڈی 189733 بی نامی سیارہ سیاروں کے ایک ایسے مجموعے کا حصہ ہے جو سورج سے چونسٹھ شمسی سال کے فاصلے پر ہے۔

اگرچہ کسی سیارے پر زندگی کے وجود کے لیے پانی ایک بنیادی جزو ہے لیکن ایچ ڈی 189733 بی کا درجہ حرارت اتنا زیادہ ہے کہ اس پر زندگی کے ہونے کے امکانات نہایت معدوم ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ سیارہ اپنے ستارے سے بہت قریب ہے۔ اس وجہ سے اس پر دن کے وقت درجہ حرات نو سو تیس ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو جاتا ہے جبکہ اسکے جس نصف پر رات ہوتی ہے وہاں درجہ حرارت سات سو ڈگری تک ہوتا ہے۔ اس قسم کے سیارے کو ’گرم جوپیٹر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کی ایک تحقیقی ٹیم کی سربراہ کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے زمین سے دوربین کی مدد سے ایچ ڈی 189733 بی کی جسامت کا مختلف اوقات میں جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کے مشاہدے میں آیا ہے کہ جب یہ سیارہ اپنے سورج کے سامنے سے گزر رہا ہوتا ہے اس وقت اس کے سائز میں قدرے اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ اس کے ارد گرد بخارات کی موجودگی ہو سکتی ہے۔

ریسرچ ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر ٹینیٹی کے مطابق اگرچہ اس سیارے پر زندگی کا وجود ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن ہماری دریافت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خلاء میں پانی شاید اتنا کمیاب نہ ہو جتنا عموماً سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو طریقہ کار انہوں نے اپنی تحقیق میں استعمال کیا ہے مستقبل میں اسے ان سیاروں کی دریافت کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جن پر زندگی کے ہونے کے لیے فضا زیادہ سازگار ہو۔

مریخ کے قُرب میں
خلائی جہاز مریخ سے250 کلومیٹر دوری پر
مریخ کا سفر
خلائی سفر کے تجربے کے لیے رضاکار درکار
کوروٹ، ایک مصور کی نظر سےستاروں کی نگرانی
سورج سے آگے کی دنیاؤں کی تلاش
پلوٹوسیارہ ہے بھی یا نہیں؟
پلوٹو کی حیثیت کا فیصلہ ہونے والا ہے
پھولا سیارہ
ماہرینِ فلکیات کے لیے نئے سوال لے کر آیا ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد