ایک نئے سیارے کی دریافت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی میں ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جو ابھی تخلیق کے مراحل میں ہے اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا سیارہ ہے۔ جرمن ماہرین کی جانب سے کی جانے والی اس دریافت کی تفصیل ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ ہائیڈل برگ میں واقع میکس پلانک انسٹیٹیوٹ آف ایسٹرانومی سے تعلق رکھنے والے جانی ستیاوان اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ نظامِ شمسی میں شامل سب سے بڑے سیارے مشتری سے حجم میں دس گنا بڑا ہے اور یہ اپنے قریب واقع ستارے ٹی ڈبلیو ہائیڈریا کے گرد گردش کرتا ہے۔ یہ سیارہ ستارے کے گرد اپنا چکر قریباً ساڑھے تین دن میں پورا کرتا ہے۔ یاد رہے کہ ٹی ڈبلیو ہائیڈریا نامی ستارے کی عمر صرف آٹھ سے دس ملین برس ہے اور یہ ہائیڈرا نامی کہکشاں میں زمین سے ایک سو بیاسی نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ ماہرینِ فلکیات نے سائنسی جریدے ’نیچر‘ کو بتایا ہے کہ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کس طریقے سے سیارے کی تشکیل کا عمل پیش آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ اس سے واضح ہے کہ سیارہ دس ملین برس کے عرصے میں بھی تشکیل پا سکتا ہے‘۔ اس سیارے کی دریافت کے لیے چلی میں واقع رصد گاہ میں موجود دو میٹر قطر کی دوربین استعمال کی گئی۔ | اسی بارے میں زہرہ پر کبھی پانی کے سمندر تھے29 November, 2007 | نیٹ سائنس ناسا کے نئے آٹھ سالہ مشن کا آغاز28 September, 2007 | نیٹ سائنس شہاِب ثاقب کے جائزے کا مشن01 September, 2007 | نیٹ سائنس نظامِ شمسی سے باہر سب سے بڑا سیارہ07 August, 2007 | نیٹ سائنس خلاء میں پانی کے بخارات دریافت12 July, 2007 | نیٹ سائنس زمین کی نگرانی، پانچ سیاروں سے19 June, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||