شہاِب ثاقب کے جائزے کا مشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے خلائی سائنسدانوں اور انجینیئرز نے مستقبل میں زمین کے قریب سے گزرنے والے ایک شہاب ثاقب کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشن ڈیزائن کیا ہے۔ تین سو میٹر چوڑا ایپوفس نامی یہ شہابِ ثاقب سنہ دو ہزار انتیس میں زمین کے بہت قریب سے گزرے گا۔ سٹیونیج میں قائم ایسٹریئم کے سائنسدان اس شہابِ ثاقب کے مدار کا صحیح اندازہ کرنا چاہتے ہیں۔ برطانوی سائنسدانوں کے ڈیزائن میں ’ایپکس‘ کے نام سے ایک چھوٹا خلائی جہاز کی تیاری شامل ہے جو کہ ایپوفس تک جنوری سنہ دو ہزار چودہ میں جا سکتا ہے۔ خیال کے مطابق یہ جہاز وہاں تین برس گزارے اور وہاں سے اس شہابِ ثاقب کے حجم،شکل اور درجۂ حرارت کے بارے میں مزید معلومات زمین پر بھجوائے۔ ان تفصیلات کے بعد یہ اندازہ لگانا آسان ہو جائےگا کہ یہ شہابیہ مستقبل میں کسی تصادم کا باعث بن سکتا ہے یا نہیں۔ ایسٹریئم کے سائنسدانوں نے اس مشن کا خیال سیارہ سوسائٹی کے پچاس ہزار ڈالر کا انعام جیتنے کے لیے پیش کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ انعام جیت گئے تو وہ ساری رقم خیرات کر دیں گے۔ ایسٹریئم کے خلائی سائنس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر میک ہیلی کے مطابق’ہمارا اصل انعام وہ ہوگا جب امریکی یا یورپی خلائی ایجنسی ان کے اس تصور پر کام کرنے کو تیار ہو جائے‘۔ اگر اس تصور کو حقیقت کی شکل دی جائے تو اس پر کم از کم پانچ سو ملین امریکی ڈالر کی لاگت آئے گی۔ اس وقت سائنسدانوں کے مطابق ایپوفس دنیا کے لیے خطرہ نہیں ہے مگر اگر ایسا ہوتا ہے تو دنیا میں بہت بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سبب بن سکتا ہے۔ سائنسدانوں کے خیال میں پینسٹھ ملین سال پہلے دنیا میں بہت سی ذی حیات اور ڈائناسور کی اموات کا سبب بھی ایسی ہی کسی بہت بڑی خلائی چیز کا زمین سے ٹکرانا بنا تھا۔ | اسی بارے میں مریخ کے چاند کی تصویر کشی12 November, 2004 | نیٹ سائنس نظامِ شمسی: ’نو کی جگہ بارہ سیارے‘16 August, 2006 | نیٹ سائنس ٹوٹتے ستاروں کی روشنیوں بھری بارش13 August, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||