زمین کی نگرانی، پانچ سیاروں سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی خلائی ادارے ’یورپین سپیس ایجنسی‘ نے اپنے عالمی نگرانی کے پروگرام کے تحت پہلے بائسپوک خلائی سیارے تیار کروانے کا آرڈر دیا ہے۔ یورپ کے ’گلوبل مانٹرنگ فار اینوائرمنٹ اینڈ سیکورٹی‘ منصوبے کے لیے سینیٹل ون زمین پر رونما ہونے والی ماحولیاتی اور جغرافیائی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے والا پہلا سیارہ ہو گا۔ یورپین سپیس ایجنسی اس قسم کے پانچ سیارے فضا میں چھوڑنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ دنیا بھر میں زمین، سطح سمندر، موسمیات اور آب و ہوا میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں پر قریبی نظر رکھی جا سکے۔ پندرہ کروڑ پچاس لاکھ پاونڈ کے سیارے کے ڈیزائن اور تیاری کے اس ٹھیکہ پر حال ہی میں پیرس میں ہونے والے ایئر شو میں دستخط ہوئے ہیں۔
اس موقع پر یورپ کے خلائی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ژان ژاک ڈورڈین اور تھیلز الینہ سپیس کے سربراہ پاسکل سوروز بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یورپی خلائی ادارے کے زمین کے مشاہداہ کرنے کے پروگرام کے ڈائیرکٹر والکر لیبگ نے کہا کہ گلوبل مانٹرنگ فار اینوائرمنٹ اور سکیورٹی کا ڈھانچہ بنانے کی طرف یہ پہلا ٹھوس قدم ہے۔ جی ایم ای ایس کا مقصد یورپ کے سیاست دانوں کو ماحول کے بارے میں آزادانہ اعدادوشمار مہیا کرنا ہے تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔ آب و ہوا کی تبدیلیوں پر نظر رکھنا اس منصوبے کا ایک خاص حصہ ہے۔ حال ہی میں یورپ میں ہونے والی جی آٹھ کے ملکوں کی سربراہ کانفرنس میں یورپ نے ماحول اور آب و ہوا کے مسئلہ پر قائدانہ کردار ادا کیا۔ لیبگ نے کہا کہ اس نظام کے ذریعے سیاست دانوں تک صحیح معلومات پہنچانے میں مدد ملے گی اور وہ ان پیچیدہ مسائل پر ٹھیک فیصلے کر سکیں گے۔ آب و ہوا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بین الحکومتی پینل کی چوتھی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق کرہ ارض کو درج حرارت اس صدی کے آخر تک ایک اعشاریہ آٹھ ڈگری سنٹی گریڈ سے لے چار ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس سال کے اوائل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سطح سمندر اٹھائیس سے تینتالیس سنٹی میٹر تک بلند ہو جائے گی اور قطب شمالی اور جنوبی پر برف پگھل جائے گی۔ لیبگ نے کہا کہ آب و ہوا میں تبدیلیاں اب کوئی ایسی چیز نہیں رہی کہ جس کا سامنا ہمارے بچوں کے بچے کو ہوگا یہ اب رونما ہو رہی ہیں۔ پاسکل سوروز نے کہا کہ جی ایم ای ایس یورپ کے شہریوں اور صنعتی سے وابستہ لوگوں کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کے ذریعے قلیل اور طویل مدت کی منصوبہ سازی کی جاسکے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||