BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 June, 2007, 03:53 GMT 08:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زمین کی نگرانی، پانچ سیاروں سے
اس نظام کا پہلا سیارہ سینیٹل ون ہو گا
یورپی خلائی ادارے ’یورپین سپیس ایجنسی‘ نے اپنے عالمی نگرانی کے پروگرام کے تحت پہلے بائسپوک خلائی سیارے تیار کروانے کا آرڈر دیا ہے۔

یورپ کے ’گلوبل مانٹرنگ فار اینوائرمنٹ اینڈ سیکورٹی‘ منصوبے کے لیے سینیٹل ون زمین پر رونما ہونے والی ماحولیاتی اور جغرافیائی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے والا پہلا سیارہ ہو گا۔

یورپین سپیس ایجنسی اس قسم کے پانچ سیارے فضا میں چھوڑنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ دنیا بھر میں زمین، سطح سمندر، موسمیات اور آب و ہوا میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں پر قریبی نظر رکھی جا سکے۔

پندرہ کروڑ پچاس لاکھ پاونڈ کے سیارے کے ڈیزائن اور تیاری کے اس ٹھیکہ پر حال ہی میں پیرس میں ہونے والے ایئر شو میں دستخط ہوئے ہیں۔

آب و ہوا کی تبدیلیاں
 اس سال کے اوائل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سطح سمندر اٹھائیس سے تینتالیس سنٹی میٹر تک بلند ہو جائے گی اور قطب شمالی اور جنوبی پر برف پگھل جائے گی۔

اس موقع پر یورپ کے خلائی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ژان ژاک ڈورڈین اور تھیلز الینہ سپیس کے سربراہ پاسکل سوروز بھی اس موقع پر موجود تھے۔

یورپی خلائی ادارے کے زمین کے مشاہداہ کرنے کے پروگرام کے ڈائیرکٹر والکر لیبگ نے کہا کہ گلوبل مانٹرنگ فار اینوائرمنٹ اور سکیورٹی کا ڈھانچہ بنانے کی طرف یہ پہلا ٹھوس قدم ہے۔

جی ایم ای ایس کا مقصد یورپ کے سیاست دانوں کو ماحول کے بارے میں آزادانہ اعدادوشمار مہیا کرنا ہے تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔

آب و ہوا کی تبدیلیوں پر نظر رکھنا اس منصوبے کا ایک خاص حصہ ہے۔

حال ہی میں یورپ میں ہونے والی جی آٹھ کے ملکوں کی سربراہ کانفرنس میں یورپ نے ماحول اور آب و ہوا کے مسئلہ پر قائدانہ کردار ادا کیا۔

لیبگ نے کہا کہ اس نظام کے ذریعے سیاست دانوں تک صحیح معلومات پہنچانے میں مدد ملے گی اور وہ ان پیچیدہ مسائل پر ٹھیک فیصلے کر سکیں گے۔

آب و ہوا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بین الحکومتی پینل کی چوتھی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق کرہ ارض کو درج حرارت اس صدی کے آخر تک ایک اعشاریہ آٹھ ڈگری سنٹی گریڈ سے لے چار ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔

اس سال کے اوائل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سطح سمندر اٹھائیس سے تینتالیس سنٹی میٹر تک بلند ہو جائے گی اور قطب شمالی اور جنوبی پر برف پگھل جائے گی۔

لیبگ نے کہا کہ آب و ہوا میں تبدیلیاں اب کوئی ایسی چیز نہیں رہی کہ جس کا سامنا ہمارے بچوں کے بچے کو ہوگا یہ اب رونما ہو رہی ہیں۔

پاسکل سوروز نے کہا کہ جی ایم ای ایس یورپ کے شہریوں اور صنعتی سے وابستہ لوگوں کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کے ذریعے قلیل اور طویل مدت کی منصوبہ سازی کی جاسکے گی۔

انسیٹ ناکام کیوں؟
انڈیا: انسیٹ کی ناکامی پر اسرو ’اپ سیٹ‘
شٹل کی جگہ اورین
ناسا نے نئے خلائی طیارے بنانے کا ٹھیکہ دیا ہے
سولر-بی مشنسولر-بی مشن
سولر-بی مشن سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔
کوروٹ، ایک مصور کی نظر سےستاروں کی نگرانی
سورج سے آگے کی دنیاؤں کی تلاش
خلائی دفاعی منصوبہ
بھارت حملے سے بچاؤ کے خلائی دفاعی منصوبہ تیار کرے گا
مریخ کے قُرب میں
خلائی جہاز مریخ سے250 کلومیٹر دوری پر
خلائی شٹلایٹلانٹس روانہ
بین الاقوامی خلائی مرکز کی تعمیر جاری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد