BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 September, 2006, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاپان:خلائی مشن ’سولر بی‘ کا آغاز
سولر-بی
سولر -بی کی مدد سے سورج کا قریبی جائزہ لیا جا سکے گا
سائنس دانوں کی سولر بی مشن سے کافی امیدیں وابستہ ہیں جس کا آغاز جاپان میں اوچینورا سپیس پورٹ سے کیا گیا۔

سولر بی سپیس کرافٹ جاپان کے جنوبی علاقہ میں واقع اوچینورا سپیس سٹیشن سے مقامی وقت کے مطابق 0639 (گرین وچ وقت کے مطابق 2136 بروز جمعہ) بروز ہفتہ روانہ ہوئی۔

اس مشن کے تحت سولر بی سپیس کرافٹ کے ذریعہ سورج میں پیدا ہونے والے ان دھماکوں کی وجہ کا پتہ لگایا جائے گا جنہیں ’اخراج نور‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ان ڈرامائی سولر فلیئرز کے باعث چند ہی منٹوں میں لاکھوں ہئڈروجن بموں کے برابر توانائی خارج ہوتی ہے اور اس عمل میں خارج ہونے والے بعض ذروں کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ زمین تک کا 149 ملین کلومیٹر کا فاصلہ صرف دس منٹ میں طے کر سکتے ہیں۔

اس مشن سے حاصل ہونے والی معلومات سے سورج کی نقل و حرکت کے متعلق پشین گوئی کرنے میں سائنسدانوں کو مدد حاصل ہوگی۔

یہ سولر فلئیرز ایسی تابکاری اور تیز رفتار ذرے زمین کی جانب پھینک سکتے ہیں جن سے ریڈیو سگنلز اور سیٹلائٹس کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس سے خلابازوں کی صحت کو بھی خطرہ ہے۔

جاپان میں خلائی تحقیق سے منسلک ایک ایجنسی کے پروفیسر تیتسویا وتنابے کا کہنا تھا کہ ’ سورج کے نزدیک مدار میں داخل ہونے کے لیے اس سپیس کرافٹ کو دو سے تین ہفتے لگیں گے۔ اس مدار سے سولر -بی سپیس کرافٹ آٹھ ماہ تک بغیر رات ہوئے سورج کا جائزہ لے سکے گی‘۔

جاپانی خلائی مشنوں کی روایات کے مطابق جیسے ہی یہ سپیس کرافٹ اپنا کام شروع کرے گی اس کو ایک نیا نام دے دیا جائے گا۔

اس سپیس کرافٹ کو جپانی خلائی ایجنسی (جاکسا) اور بجلی کی مصنوعات بنانے والی کمپنی مٹسوبیشی نے باہمی تعاون سے تعمیر کیا ہے اور اس میں امریکہ اور یوکے سے بھی تعاون حاصل کیا گیا ہے۔

سائنس دانوں کو ان سولر فلیئرز کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہیں لیکن وہ اس بات کی قبل از وقت کوئی نشاندہی نہیں کر سکتے کہ یہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہ کاری کب ہوگی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سولر بی اس مشکل کو آسان کرے گی۔

سولر

فلیئرز
اس فلئیرز سے زمین کے ماحول کو شددید نقصان پہنچ سکتا ہے
-بی پر تین آلات موجود ہیں جن میں خلائی آپٹیکل خوردبین، ایک ایکس رے خوردبین اور ایک ایکسٹریم الٹراوائلیٹ ایمیجنگ سپیکٹرومیٹر شامل ہیں۔

ان آلات کی مدد سے سورج کی سطح پر پیدا ہونے والی سولر فلیئرز کا جائزہ لیا جائے گا۔

یونیورسٹی کالج لندن کی ملارڈ خلائی سائنسی لیبارٹری کی پروفیسر لوئس ہارا کا کہنا ہے کہ ’ سولر-بی ایک خوردبین کی مانند ہے جس سے سورج کی سطح پر پیدا ہونے والے فلیئرز کی وجہ کا تعین ہو سکے گا‘۔

سولر -بی ان کئی سپیس مشنوں میں سے ہے جو سورج اور زمین کے درمیان رشتے کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گے۔ اس کے بعد دوسری سپیس کرافٹ کو بھی خلاء میں بھیجا جائے گا۔

خلاء میں موجود آلات ہمیں وقت اور جگہ معلوم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور موصلاتی رابطے بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے زمین اور سورج کے درمیان کے اس رابطے کے بارے میں جاننا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سورج کی سطح پر پیدا ہونے والے ان فلیئرز سے مواصلاتی سیاروں کو نقصان پہنچتا ہے جو نہ صرف معیشت کو بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سولر فلیئرز
سولر-بی سپیس کرافٹ کے ذریعہ سائنس دان خلائی موسم کا بہتر طور پر اندازہ لگا سکیں گے۔

اس سولر-بی سپیس کرافٹ کے ذریعہ سائنس دانوں کو ایسی معلومات حاصل ہو جانی چاہیں جن کی بناء پر وہ خلائی موسم کا بہتر طور پر اندازہ لگا سکیں۔

ناسا کے مارشل سینٹر سے سولر بی پروجیکٹ میں حصہ لینے والے ایک سائنسدان جان ڈیوس کا کہنا تھا کہ ’ نظام شمسی میں پیدا ہونے والی خرابیاں جن سے مواصلاتی رابطے، بجلی کے پاور گرڈز اور خلاء بازوں کو بھی خطرہ لاحق ہے جو زمین کی کشش ثقل کی حفاطتی حدود کے باہر سفر کرتے ہیں۔ سولر- بی جو معلومات فراہم کرے گی اس سے شمسی نظام میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی وجہ معلوم ہو سکے گی اور ان کا قبل از وقت پتہ لگایا جا سکے گا۔

اسی بارے میں
ڈسکوری کی روانگی پھر مؤخر
03 July, 2006 | نیٹ سائنس
دھوپ سے ہر سال 60000 ہلاکتیں
27 July, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد