انسیٹ کی ناکامی پر اسرو ’اپ سیٹ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی خلائی تحقیقاتی تنظیم (اسرو) اپنے جی ایس ایل وی راکٹ اور سب سے بڑے مواصلاتی مصنوعی سیارے انسیٹ 4 سی کے تباہی کے دھچکے سے سنبھلنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیئے تحقیق اور تجزیہ کا کام شروع کردیاگیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں جو اہم بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ جی ایس ایل وی- ایف صفر ٹو راکٹ خود سے تباہ نہیں ہوا بلکہ سری ہری کوٹہ خلائی مرکز کے رینج سیفٹی افسر نے اسے اس وقت تباہ کرنے کا بٹن دبا دیا جب یہ راکٹ اپنے مقررہ راستے سے خطرناک حد تک ہٹ چکا تھا اور اس کے زمین پر گرنے اور لوگوں کو نقصان پہنچانے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔ چنانچہ راکٹ کو تباہ کرنے کے بعد اس کا 414 ٹن وزنی ملبہ اور سیٹلائیٹ کا ملبہ خلیج بنگال میں گرانا پڑا۔ اسرو کے سربراہ مادھون نائر نے کہا ہے کہ ایسی ناکامی بہت ہی شاذ ونادر ہوتی ہے۔ ’یہ تکنیکی خرابی پہلے مرحلے میں ہی اس وقت پیدا ہوئی جب راکٹ کواوپر لے جانےوالی چار موٹروں میں سے ایک نے بالکل کام کرنا بند کردیا اور تین موٹروں کی طاقت راکٹ کو اس کے راستے پر لے جانے کے لیئے کافی نہیں تھی‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ نہ تو ڈیزائن میں کسی خرابی کی وجہ سے ہوا اور نہ ہی سیٹلائیٹ کے زیادہ وزنی ہونے کی وجہ سے۔ دو ہزار ایک سو ستر کلو گرام کے ساتھ یہ اب تک کا سب سے بڑا ہندوستانی مواصلاتی سیارہ تھا- اس واقعہ کو ہندوستانی خلائی پروگرام کے لیئے ایک دھچکا تصور کیا جارہا ہے کیونکہ اب تک ہندوستان نے سری ہری کوٹہ سے کامیابی کے ساتھ گیارہ راکٹ چھوڑے ہیں۔ اسرو کے مطابق اس جی ایس ایل وی راکٹ کی تیاری پر 150 کروڑ روپے اور انسیٹ فور سی مواصلاتی سیارے کی تیاری پر 96 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔
13 سال کے طویل عرصہ کے بعد پہلی مرتبہ اسرو کی جانب سے راکٹ چھوڑنے کی کوئی کوشش ناکام ہوئی ہے۔ اس سے پہلے ستمبر 1993ء میں پی ایس ایل وی ڈی راکٹ چھوڑنے کا تجربہ ناکام ہوا تھا۔ اس تنقید پر کہ ہندوستان بہت کم خلائی راکٹ چھوڑتا ہے، سری ہری کوٹہ کے خلائی مرکز کے ڈائریکٹر اناملائی کاکہنا تھا کہ مرکز میں اس وقت صرف دو لانچنگ پیڈ ہیں جن سے ہر برس صرف چار راکٹ داغے جاسکتے ہیں۔ اسرو پانچ سو ملین ڈَالر کے خرچہ سے مزید دو لانچنگ پیڈ بنانے کی کوشش کر رہاہے۔ ہندوستان کا خلائی پروگرام دو قسم کے راکٹوں کی بنیاد پر چل رہا ہے اس میں سے ایک جی او سنکرونس لانچ وہیکل یا جی ایس ایل وی اور دوسرا پولر سنکرونس لانچ وہیکل یا پی ایس ایل وی ہے۔ اب تک پی ایس ایل وی راکٹ کو اس طرح کے کسی مسئلہ کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے اور اسے 9 مرتبہ کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجا گیا ہے۔ اسرو کے حکام یہ بھی کہتے ہیں کہ اس ناکامی کا 2008 ء میں چاند پر انسانی مشن روانہ کرنے کے پروگرام چاندرائن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اس میں پی ایس ایل وی راکٹ استعمال کیئے جائیں گے۔
مادھون نائر نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا ہے کہ اسرو ایک سال کے اندر ایک اور مصنوعی سیارہ انسیٹ فور وی سری ہری کوٹہ سے چھوڑے گا۔ انسیٹ 4 سی کی تباہی سے ہندوستان کو دو محاذوں پر نقصان پہنچا ہے، ایک طرف بڑی عالمی طاقت بن کر ابھرنے اور مصنوعی سیارے چھوڑنے کی عالمی منڈی میں اپنے آپ کو منوانے کا خواب متاثر ہوا ہے تو دوسری طرف اس کے مواصلاتی شعبہ کی توسیع کے پروگرام پر بھی اثر پڑا ہے کیونکہ یہ مصنوعی سیارہ ڈائریکٹ ٹو ہوم ٹیلی ویژن خدمات، ویڈیو پکچر کی ترسیل، خبروں کی ترسیل اور نیشنل انفارمیٹکس سینٹر کو مربوط کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا تھا۔ ہندوستان دنیا کے ان چھ ممالک میں سے ایک ہے جو خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی سیارے بنانے اور انہیں خلا میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مصنوعی سیاروں کی ناکامی 1982 انساٹ ون اے : اس کی بلندی کو کنٹرول کرنے والا ایندھن ختم ہوجانے کے نتیجے میں اس کا استعمال ترک کردینا پڑا جبکہ اسے کم از کم 7 برس کی کارکردگی کے منصوبے کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔ | اسی بارے میں دو نئے سیارے خلاء میں روانہ05 May, 2005 | انڈیا بھارت، امریکہ چاند کی کھوج میں09 May, 2006 | انڈیا اِنفارمیشن ٹیکنالوجی بمقابلہ کرپشن01 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||