بھارت، امریکہ چاند کی کھوج میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور بھارت چاند پر مشترکہ تحقیق کریں گے۔ اس ضمن میں بھارت کا ایک خلائی مشن امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کے لیئے چاند کے بارے میں تحقیق کا کام کرے گا۔ دونوں ملکوں کی خلائی ایجنسیوں کے مابین ایک معاہدے کے تحت بغیر خلابازوں کے جانے والے اس بھارتی مشن میں امریکی ادارہ دو آلات نصب کرے گا۔ اس مشن کا نام ’چندریان ون‘ ہے جسے دو سال کے عرصے میں اپنی منزل کی جانب روانہ ہونا ہے۔ بھارتی حکام اسے ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ ناسا کی جانب سے لگائے جانے والے آلات چاند پر برف اور معدنیات کی صورتحال کا نقشہ حاصل کریں گے۔ ناسا کے سربراہ مائیکل گرفن نے بھارت کے اس منصوبے کو بہت متاثر کن کامیابی قرار دیا۔ بھارت کے اس خلائی مشن میں یورپی خلائی ایجنسی اور بلغاریہ کی جانب سے بھی آلات نصب کیئے جائیں گے۔ اس تعاون کو بھارت اور امریکہ کے مابین سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے بڑھتے ہوئے تعلقات کا آئینہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہی دونوں ممالک نے سویلین جوہری ٹیکنالوجی کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے خلائی تحقیق، سیٹلائیٹ نیویگیشن اور زمین کی سائنس سے متعلق تعاون کے سمجھوتے بھی کیئے ہیں۔ بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے ’اسرو‘ کے سربراہ مدھاون نیر نے ناسا کے سربراہ مائیکل گرفن کے ساتھ بنگلور میں اس معاہدے پر دستخط کیئے۔ بھارتی ادارے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’آج کا دن ناسا اور ’اسرو‘ کے درمیان تعاون کے سلسلے میں ایک اہم سنگ میل ہے‘۔ مائیکل گرفن نے کہا کہ ’یہ چاند کی تحقیق کے لیئے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے چاند کی تاریخ اور ارتقاء کے متعلق معلومات میں اضافہ ہو گا ور چاند کی مٹی سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں مزید تحقیق کے بارے میں فیصلے کیئے جائیں گے‘۔ تیس سال کے عرصے میں ناسا کے سربراہ کا یہ بھارت کا پہلا دورہ ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکہ نے بھارت کے تحقیقاتی ادارے ’اسرو‘ پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ مدھاون نیر نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اس ادارے پر موجود باقی پابندیاں بھی ختم کرے تاکہ مزید جدید ٹیکنالوجی درآمد کی جا سکے۔ چاند کے لیئے خلائی مشن میں خلاباز کی موجودگی کے سوال پر مدھاون نیر کا کہنا تھا کہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا امریکہ اپنے خلائی جہازوں میں کسی بھارتی خلاباز کو جگہ دے گا گرفن نے کہا کہ ’ ہم تربیت فراہم کر سکتے ہیں لیکن ہمارے پاس اگلے آٹھ سال تک کوئی جگہ خالی نہیں ہے‘۔ | اسی بارے میں خلا میں قبلہ کس طرف ہوگا؟23 April, 2006 | نیٹ سائنس زمین جیسا سیّارہ دریافت26 January, 2006 | نیٹ سائنس پلوٹو کے لیے پہلا خلائی مشن روانہ19 January, 2006 | نیٹ سائنس ایک کروڑ دس لاکھ پاونڈ کا خلائی سفر03 October, 2005 | نیٹ سائنس ڈسکوری مرکز پر پہنچ گئی 22 August, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||