BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 August, 2007, 06:35 GMT 11:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خلائی شٹل کی مرمت واپسی پر
خلاء باز
اس سوراخ کے مرمت کے سلسے میں کی جانے والے چہل قدمی میں رسک تھا
امریکی خلائی ادارے ناسا نے فیصلہ کیا ہے کہ خلائی شٹل ’اِنڈیور‘ کی سطح پر ہونے والے سوراخ کی مرمت شٹل کی زمین پر واپسی پر کی جائے گی۔

نو سینٹی میٹر ( 3.5 انچ) کے اس سوراخ کی مرمت کے بارے میں کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے میں ناسا کے اہلکاروں کو ایک ہفتہ لگا۔

ناسا کے اہلکاروں کو یہ خدشہ تھا کہ اس سوراخ کی وجہ سے زمین پر واپسی کے دوران شٹل کو نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن لاتعداد تجزیوں کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ اس سے شٹل کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔

ناسا کے اس مشن کے منیجرز نے زمین پر ٹیسٹ کیے جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس سوراخ کی مرمت کے لیے دو خلا بازوں کو شٹل سے باہر بھیجا نہیں جائے گا۔

خلائی شٹل ’اِنڈیور‘ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کی مرمت کا کام جاری رکھنے کے لیے اپنے چودہ روزہ مشن پر ہے۔

آٹھ اگست کو جب شٹل کو خلا میں بھیجا گیا تھا تو اسے حرارت سے محفوظ رکھنے والی چادر کا کچھ حصہ اکھڑ کر شٹل سے ٹکرا گیا تھا جس کے باعث شٹل کی سطح پر بزنس کارڈ کی لمبائی اور چوڑائی جتنا ایک سوراخ ہو گیا تھا۔

مشن کنٹرول نے جمعرات کو شٹل میں موجود سات خلا بازوں کو مرمت سے متعلق اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ خلائی شٹل ’اِنڈیور‘ کے کمانڈر سکاٹ کیلی نے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا اور زمین پر اپنے ساتھیوں کی محنت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

2003 میں کولمبیا شٹل کی زمین سے لانچ کے دوران حرارت کی شدت سے بچانے والی چادر کا بریف کیس کے سائز جتنا ایک حصہ اُکھڑ کر شٹل کے پر سے ٹکرا گیا تھا جس سے پر کو نقصان پہنچا تھا اور شٹل زمین پر واپسی کے دوران فضا میں ہی تباہ ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں شٹل میں موجود سات خلا باز ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد سے حرارت سے بچاؤ کی اس چادر کو نقصان پہنچنے کا مسئلہ ناسا کے لیے بڑی تشویش کا باعث رہا ہے۔

خلائی شٹل ’اِنڈیور‘ میں کچھ ایسے نئے آلات ہیں جن کی مدد سے یہ انٹرنیشنل سپیس اسٹیشن کے پاور گرِڈ سے بجلی حاصل کر سکتی ہے۔ شٹل کا یہ مشن گیارہ دن کا تھا لیکن اس نئی سہولت کے باعث اسے بڑھا کر چودہ دن تک کا کرنے میں مدد ملی ہے۔

مریخ کا سفر
خلائی سفر کے تجربے کے لیے رضاکار درکار
مریخ کے مدار تک
خلائی جہاز مریخ کے مدار میں پہنچ گیا
ناسا کا مشن ’نیو ہورائزنز‘مشن ’نیو ہورائزنز‘
پلوٹو کے لیے ناسا کا پہلا خلائی مشن روانہ ہو گیا
خلائی شٹلایٹلانٹس روانہ
بین الاقوامی خلائی مرکز کی تعمیر جاری
اسی بارے میں
خلائی طیارہ ’انڈیور‘ روانہ
09 August, 2007 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد