BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 June, 2007, 22:14 GMT 03:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایٹلانٹس خلائی سٹیشن پر اتر گئی
خلائی شٹل
شٹل ایٹلانٹس کی بیرونی سطح کو پرواز کے آغاز پر نقصان پہنچا تھا
خلائی شٹل ایٹلانٹس اس سال کے اپنے پہلے مشن کے دوران بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر کامیابی سے اتر گئی ہے جہاں اس کی مرمت کا کام کیا جائے گا۔

شٹل ایٹلانٹس گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق شام سات بجکر اڑتیس منٹ پر مغربی بحرالکاہل سے دو سو بیس میل کی بلندی پر واقع بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر اتری۔

ناسا کے سائنس دان شٹل کو پہنچنے والے نقصان کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ جمعہ کو جب شٹل اپنے مشن پر روانہ ہوئی تو اس کی بیرونی سطح کی ٹائیلوں میں شگاف پڑ گیا تھا۔

ناسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارے کے خیال میں شٹل کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ’فی الوقت ہمارے لیے یہ پریشانی کی بات نہیں ہے‘۔

اس شٹل پر سات خلانورد سوار ہیں جو بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر تنصیبات کا کام جاری رکھیں گے اور اس پر دو نئے شمسی پینل لگائیں گے تاکہ اس سال کے آخر میں یورپ کی شٹل کولمبس بھی اس سٹیشن پر اتر سکے۔


شٹل کو حرارت سے بچانے والی بیرونی سطح میں چار انچ کے قریب شگاف پڑ گیا ہے جس سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

سنہ دو ہزار تین میں اسی طرح روانگی کے وقت شٹل کولمبس کو بھی نقصان پہنچا تھا جو زمین پر واپسی کے دوران ٹکڑے ٹکڑے ہو کر فضا میں بکھر گئی تھی اور اس پر سوار تمام کے تمام سات خلا نورد ہلاک ہوگئے تھے۔

تاہم ایٹلانٹس کو پہنچنے والے نقصان کے باجود اس کے بین الاقوامی سٹیشن پر اترنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔

ماہرین نے متاثرہ جگہ کی تصاویر کا معائنہ کیا ہے جو شٹل کے روبوٹک بازو پر لگے کیمرے سے لی گئی ہیں۔

ناسا کا ارادہ تھا کہ وہ اس سل شٹل کو مارچ کے وسط میں خلا پر بھیجے گا لیکن فروری میں فلوریڈا میں شدید طوفان اور ژالہ باری نے شٹل کو متاثر کیا جس سے اس کی روانگی میں تاخیر ہوئی۔

ناسا کا آخری خلائی مشن دسمبر میں تھا۔اٹلانٹس میں سوار سات خلاباز بین الاقوامی خلائی مرکز میں پہنچ کر دو شمسی پینلوں سمیت تنصیب کے دیگر کام کو جاری رکھیں گے۔

شٹل کے پروگرام مینیجر نے بتایا کہ اٹلانٹس کی روانگی کے بعد اس کے ایندھن کے ٹینک سے کچھ فوم گِرا تھا لیکن یہ شٹل سے نہیں ٹکرایا اور ابتدائی تجزیے کے مطابق اس سے کسی نقصان کا اندیشہ نہیں۔

ناسا کی خلائی شٹل تین سال بعد ریٹائر کر دی جائیں گی اور اس کو اسی دوران بین الاقوامی مرکز کی تعمیر مکمل کرنا ہے۔

ناسا کے پروگرام کے تحت بین الاقوامی مرکز تک ضروری سامان اور آلات پہنچانے کے لیے پندرہ مزید مِشن روانے کیے جائیں گے جن میں سے ایک کے کا مقصد ہبل خلائی دوربین کی مرمت ہے۔

خیال ہے کہ تعمیر مکمل ہونے تک خلائی مرکز میں خلابازوں کو ٹھہرانے کی صلاحیت دوگنی ہو جائے گی اور چھ لوگ وہاں رک سکیں گے۔

اسی بارے میں
سن دو ہزار سات کا پہلا مِشن
09 June, 2007 | نیٹ سائنس
شٹل: خلا میں مرمت کامیاب
02 August, 2005 | نیٹ سائنس
خلائی شٹل مشن پر روانہ
26 July, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد