ناسا شٹل خلاء کے لیے روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارے کی شٹل ڈسکوری چودہ روزہ مشن پر خلاء کے لیے روانہ ہو گئی۔ شٹل میں جاپانی خلائی ادارے کے ایک بڑے سیلنڈر اور عالمی خلائی ادارے (آئی ایس ایس) کی لیٹرین کی مرمت کے لیے ضروری ساز و سامان کو بھی خلاء میں بھیجا گیا ہے۔ رواں سال میں ڈسکوری شٹل کی یہ تیسری راونگی ہے۔ اس مرتبہ شٹل کا فیول ٹینک مختلف انداز میں بنایا گیا ہے۔ دو ہزار تین میں خلائی شٹل کولمبیا کی تباہی کی ایک بڑی وجہ فیول ٹینک کو شٹل سے جدا کرنے کے عمل کے دوران شٹل کی انسولیشن فوم کا خراب ہونا تھا۔ خلائی شٹل جاپان کے ایک بڑے سیلنڈر کوجسے جاپانی پریشرائزڈ ماڈیول (جےپی ایم) کا نام دیا گیا ہے، خلاء میں لے کر جا رہی ہے اس کو ابتدائی طور عالمی خلائی سٹیشن کے ساتھ لگایا جائے گا لیکن بعد میں خلائی سٹیشن سے علیحدہ ہو جائے گی اور خلاء میں تحقیق کا ایک علیحدہ پلیٹ فارم مہیا کرے گی۔ جاپانی پریشرائزڈ ماڈیول (جےپی ایم) کا سائز ایک سکول بس کے برابر ہے اور اس سلینڈر کی روانگی کے بعد جاپان ان ملکوں کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو خلائی تحقیق میں آگے آگے ہیں۔ ڈسکوری شٹل میں جاپانی سیلنڈر کے علاوہ خلائی شٹل کے بیت الخلاء کو ٹھیک کرنے کا سامان بھی روانہ کر دیا گیا تھا۔ روسی ساختہ خلائی بیت الخلاء گزشتہ ہفتے خراب ہوگیا تھا اور وہاں موجود سائنسدانوں کو ہاتھوں سے لیٹرین کو صاف کرنا پڑتا ہے۔ خلائی بیت الخلاء کی مرمت کے لیے روس سے سازوسامان ہنگامی بنیادوں پر امریکہ روانہ کیا گیا جہاں سے اسے ڈسکوری میں لاد کر خلائی سٹیشن کو روانہ کر دیا گیا۔ | اسی بارے میں یورپی مشن کے بعد اب امریکی شٹل11 March, 2008 | نیٹ سائنس خلائی شٹل ایٹلانٹس کی واپسی23 June, 2007 | نیٹ سائنس ڈسکوری سے فوم ٹکرایا ہوگا: ناسا29 July, 2005 | نیٹ سائنس خلائی شٹل کی روانگی پھر موخر14 July, 2005 | نیٹ سائنس خلائی شٹل بار میں خرابی12 July, 2005 | نیٹ سائنس ڈسکوری خلا میں جانے کے لیے تیار01 July, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||