کینسر: لکھائی سے سوچ میں تبدیلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی تحقیق کے مطابق کینسر کے مرض میں مبتلا مریضوں کو اپنے خوف کے بارے میں لکھنے کی حوصلہ افزائی کرنے سےان کا معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے۔ نینسی مورگن نے واشنگٹن میں کینسر سینٹر میں انتظار کرتے مریضوں پر یہ تحقیق کی۔ اونکولوجسٹ نامی جریدے کے مطابق جنہوں نے اس تحقیق میں حصہ لیا ان میں سے آدھے مریضوں کا کہنا تھا کہ اس مرض سے لاحق خوف کے بارے میں لکھ کر ان کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ اس مرض میں مبتلا نوجوان افراد اور وہ جن کو ابھی یہ مرض ہوا ہے اس لکھائی سے زیادہ مستفید ہونگے۔ یہ لکھائی صرف بیس منٹ لیتی ہے اور اس میں سوال پوچھا جاتا ہے کہ یہ مرض ان کی زندگی پر کیسے اثر انداز ہوا ہے۔ وہ کینسر کے مریض جنہوں نے یہ لکھائی کی تھی، ان سے چند ہفتوں بعد دوبارہ رجوع کیا گیا۔ ان میں سے انچاس فیصد کا کہنا تھا کہ اس لکھائی کے بعد ان کی سوچ کینسر کے بارے میں تبدیل ہوئی ہے جبکہ اڑتیس فیصد کا کہنا تھاکہ انہیں فرق نہیں پڑا۔ اس لکھائی کا براہ راست معائنے کے دوران مریض پر کوئی فرق نہیں پڑا البتہ ان کی سوچ پر فرق پڑا ہے۔ مورگن کا کہنا ہے کہ ’ کینسر سے جڑے سوچ اور جذبات پر اس لکھائی سے فرق پڑتا ہے اور یہ دیگر تحقیقات میں ثابت ہو چکا ہے۔ صرف حقائق کے بارے میں لکھنے سے فرق نہیں پڑتا‘۔ ڈاکٹر بروس چیسن کا کہنا ہے ’مجھے خوشی ہے کہ بہت سے مریض اس قسم کے معالجے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ہماری تحقیق ثابت کرتی ہے کہ اس لکھائی سے فائدہ ہوتا ہے اور کینسر کے مصروف کلینک میں اس قسم کی لکھائی کرانی چاہیے۔‘ |
اسی بارے میں رات کی شفٹ میں کینسر کا خطرہ01 December, 2007 | نیٹ سائنس ’زیادہ تر کینسر موروثی نہیں‘31 July, 2007 | نیٹ سائنس کم کولسٹرول اور کینسر میں تعلق24 July, 2007 | نیٹ سائنس پروسٹیٹ کینسر، مردوں کی پریشانی22 July, 2007 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||