پروسٹیٹ کینسر، مردوں کی پریشانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحقیق کے مطابق مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کے اثرات پائے جانے کی صورت میں بیماری اور معاشرے کا خوف انہیں ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے روکتا ہے۔ برمنگھم یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم نے ایسے بیس مردوں کے انٹرویو کیے جو پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کون سے اسباب ہیں جو ان کے علاج کروانے کے فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ برٹش جرنل آف ہیلتھ سائکالوجی کے مطابق بیماری کے اثرات کا علم ہونے کے باوجود مرد علاج کے خوف سے اور یہ سوچ کر کہ علاج کروانا مردانگی کے خلاف ہے ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے۔ یہ کینسر پروسٹیٹ غدود کو متاثر کرتا ہے جو کہ مردوں میں پیشاپ کی تھیلی کے قریب پایا جاتا ہے اور ’سیمن‘ بنانے کے عمل میں بھی مدد کرتا ہے۔ پروسٹیٹ کینسر کے اثرات میں، پیشاپ کرتے وقت درد کا ہونا، سیمن یا پیشاپ میں خون کا پایا جانا، کمر، پیٹھ اور رانوں میں درد شامل ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے پروسٹیٹ کینسر کے مرض میں مبتلا 51 سال سے 75 سال تک کی عمر کے مردوں کے انٹرویو کیے جس سے علاج کروانے میں دیر کرنے کے کئی اسباب سامنے آئے۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق اثرات سامنے آنے کی صورت میں مرد اس کی باقاعدہ تشخیص کروانے سے ڈر کر ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں اور صحت سے متعلق معلومات حاصل کرنے سے دور بھاگتے ہیں۔
تحقیق میں شامل مردوں کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ مرد ڈاکٹر حضرات کا رویہ ان کی جانب مثبت نہیں ہوتا۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر سوزن ہیل کا کہنا ہے کہ ’اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیماری کے اثرات کو رد کرنے یا اپنی صحت کا خیال نہ رکھنے کے علاوہ مرد شدید ذہنی دباؤ اور بے سکونی کا بھی شکار ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’بیماری اور اس کے علاج کے نتائج کے بارے میں مردوں کی سوچ ان کے علاج کروانے کے فیصلے پر بہت اثر انداز ہوتی ہے‘۔ پروسٹیٹ کینسر مردوں میں عام پایا جاتا ہے۔ ہر سال ایسے تیس ہزار کیس منظر عام پر آتے ہیں۔ |
اسی بارے میں پھیپھڑوں کے کینسر، علاج میں نئی امید03 December, 2006 | نیٹ سائنس زیادہ ڈبل روٹی: کینسر کا خطرہ21 October, 2006 | نیٹ سائنس نارنگی جگر کے کینسر میں مؤثر11 September, 2006 | نیٹ سائنس سرطان سے چھٹکارا جین تھراپی سے01 September, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||