BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 July, 2007, 08:23 GMT 13:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’زیادہ تر کینسر موروثی نہیں‘
بریسٹ کینسر سیل
کینسر کی زیادہ تر اقسام جینز کے ذریعے منتقل نہیں ہوتی ہیں
ایک سروے کے مطابق کینسر کی صرف چند ایسی اقسام ہیں جو موروثی ہوتی ہیں۔

معلوماتی خیراتی ادارے کینسر بیک کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق اکیانوے فیصد لوگ اس بات کو لے کر بلاوجہ پریشان ہوتے ہیں کہ ان کے خاندان میں اگر کسی کو کینسر ہو تو اس بات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ یہ بیماری ان میں منتقل ہو سکتی ہے۔

اس سروے میں ایک ہزار سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی جو کہ جینز ری یونائیٹڈ کی ویب سائٹ کے ذریعے کیا گیا۔

اس سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ ایک تہائی لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ کینسر کی زیادہ تر اقسام ایسی ہیں جو خاندان کے بڑوں سے بچوں کو وراثت میں ملتی ہیں۔

کینسر سے متعلق پریشانی انسان کو بہت کمزور کر دیتی ہے اور یہ بات افسوسناک ہے کہ لوگ اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ کیسنر کی ایسی چند ہی اقسام ہیں جو جینز کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں
ڈاکٹر اینڈریا پتھرز

74 فیصد لوگوں کا یہ ماننا غلط ہے کہ اگر خاندان کے افراد مختلف قسم کے کینسر کا شکار ہوں تو یہ بیماری جینز کے ذریعے خاندان کے دوسرے افراد میں بھی منتقل ہو جاتی ہے اور صرف پندرہ فیصد لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ اس کی اصل وجہ در حقیقت عمر ہے۔ کینسر اکثر 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔

معلوماتی خیراتی ادارے کینسر بیک آپ کی منیجر ڈاکٹر اینڈریا پتھرز کا کہنا ہے کہ ’ کینسر سے متعلق پریشانی انسان کو بہت کمزور کر دیتی ہے اور یہ بات افسوسناک ہے کہ لوگ اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ کیسنر کی ایسی چند ہی اقسام ہیں جو جینز کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ لوگوں کو اس بارے میں معلومات ہونی چاہیے کہ کینسر کے خدشات کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ متوازن خوراک کے استعمال سے اور ورزش کرنے سے۔‘

کینسر ریسرچ برطانیہ کے مارٹن لیڈوک کا کہنا ہے کہ اس سروے کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگوں کو کینسر کے خدشات سے متعلق صحیح معلومات فراہم کرنا کتنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ اگر ہم اپنے رہن سہن کے طریقہ کار کو بدل لیں تو کینسر کی زیادہ تر اقسام سے بچا جا سکتا ہے‘۔

چھاتیوں کا سرطانسرطان کے اسباب
چھاتیوں میں سرطان خیز عنصر کی دریافت
بدلتی شفٹوں میں کام
شفٹوں میں کام سے مثانے کے کینسر کا خطرہ زیادہ
دھوپ سیکناڈبلیو ایچ او رپورٹ
تیز دھوپ سے ہر سال 60000 ہلاکتیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد