رات کی شفٹ میں کینسر کا خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یعنی عالمی ادارۂ صحت کی ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین کافی عرصے کے لیے رات کی شفٹس کرتی ہیں ان میں کینسر کے پیدا ہونے کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ اینڈ کینسر کی رپورٹ نرسوں اور فضائی میزبانوں پر کی گئی تحقیق پر مشتمل ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عورتوں کے جسم کے قدرتی نظام یا ’باڈی کلاک‘ میں ردوبدل سے بریسٹ کینسر کے مواقعے زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ جانوروں پر کی گئی تحقیق میں بھی یہی بات سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق مغربی ممالک میں بیس فیصد لوگ رات کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔
سائنسدانوں کو ابھی معلوم نہیں ہے کہ رات کی شفٹ میں اور کینسر میں کیا رابطہ ہے لیکن ان کے خیال میں رات کو روشنی میں بیٹھنے سے وہ جینز متاثر ہوتی ہیں جوٹیومر کو بننے سے روکتی ہیں۔ اس سے پہلے یہ تحقیق بھی ہو چکی ہے کہ خواتین اپنی چھاتی کے کینسر کی علامات کی نشاندہی کے حوالے سےکافی غلط فہمیوں کا شکار رہتی ہیں۔ برطانیہ کے ایک رفاہی ادارے، بریک تھرو بریسٹ کینسر نے انکشاف کیا تھا کہ ان کی تحقیق میں حصہ لینے والی ایک چوتھائی خواتین کو یہ غلط فہمی تھی کہ ہر وقت کی کھانسی بریسٹ کینسر کی علامت ہو سکتی ہے۔ جبکہ اکیاسی فیصد کا خیال تھا کہ چھاتی پر تل بھی آگے چل کر بریسٹ کینسر ہو سکتا ہے۔ | اسی بارے میں بریسٹ کینسر، خواتین کی لاعلمی20 September, 2007 | نیٹ سائنس ’کینسر کی مریضہ کی عصمت دری‘15 April, 2007 | انڈیا کیموتھریپی جین پر خدشے کا اظہار19 May, 2007 | نیٹ سائنس کم کولسٹرول اور کینسر میں تعلق24 July, 2007 | نیٹ سائنس ’زیادہ تر کینسر موروثی نہیں‘31 July, 2007 | نیٹ سائنس کائلی منوگ کا سڈنی میں کنسرٹ11 November, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||