BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 April, 2007, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کینسر کی مریضہ کی عصمت دری‘

ٹاٹا کینسر میموریل ہسپتال جہاں مبینہ طور پر لڑکی کی عصمت دری کی گئی
کینسر کی ایک سولہ سالہ مریضہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹاٹا کینسر میموریل ہسپتال میں بیہوشی کے دوران کسی نے اس کی عصمت دری کی ہے۔

بھوئیواڑہ پولیس نے لڑکی اور اس کے والدین کی شکایت پر نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 376, 509 ,34 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس نے ہسپتال کے دو وارڈ بوائز کو حراست میں لیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ دوسری طرف ریاست کے نائب وزیراعلیٰ آر آر پاٹل نے اس کیس کی تفتیش کا حکم دیا ہے۔

ٹاٹا ہسپتال کینسر کے علاج کے لیے انڈیا کا سب سے بڑا ہسپتال ہے جہاں روزانہ ہزاروں مریض ملک کے مختلف کونوں سے آتے ہیں۔

مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی پانچ ماہ کی حاملہ لڑکی نے پولیس کو دیے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے آپریشن سے قبل بے ہوشی کی دوا سنگھائی گئی تھی اور اس دوران اسے دھندلا یاد ہے کہ وہاں موجود وارڈ بوائز کچھ فحش باتیں کر رہے تھے، اس کے بعد اُسے کچھ یاد نہیں۔

بھوئیواڑہ پولیس سٹیشن جہاں وارڈ بوائز کو رکھا گیا ہے

لڑکی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کی سولہ سالہ بیٹی چل پھر نہیں سکتی اور ٹاٹا ہسپتال میں داخلے بعد اٹھارہ نومبر کو اس کا ایک آپریشن کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں ان کی بچی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ باعث شرم ہے۔ ان کا خاندان کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ وہ مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ آر آر پاٹل سے انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں۔

لڑکی کی والدہ کا کہنا تھا کہ بیٹی کے حاملہ ہونے کے بارے میں انہیں بروقت اس لیے علم نہیں ہو سکا کیونکہ ان کی بیٹی کو قے ہونے کی شکایت کی تھی جسے ڈاکٹروں نے بیماری کا حصہ کہہ کر ٹال دیا تھا اب جبکہ لڑکی کے حاملہ ہونے کا کیس سامنے آیا تو انہوں نے ڈاکٹر سے بات کی جس پر ڈاکٹر نے جواب دیا کہ آپریشن کے بعد ان کا فرض پورا ہو گیا تھا۔

ڈپٹی پولیس کمشنر دتا تریہ کرالے کا کہنا ہے کہ پولیس نے کیس درج کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکی کو گزشتہ سال نومبر میں علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا۔ اگر وہ پانچ ماہ کی حاملہ ہے تو یہ بات طے ہے کہ جو کچھ ہوا وہ ہسپتال میں ہوا کیونکہ اس دوران وہ ہسپتال کے بستر پر تھی۔

ٹاٹا ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر امبو منی کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش جاری ہے۔ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جا رہا ہے۔ اگر ہسپتال کے عملہ میں کوئی اس کا ذمہ دار پایاگیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

یوسف نور اور شاہ رخ خانشاہ رخ سے ملنا ہے
کینسر کے مریض آٹھ سالہ بچے کی خواہش
بدلتی شفٹوں میں کام
شفٹوں میں کام سے مثانے کے کینسر کا خطرہ زیادہ
اسی بارے میں
کینسر کا مفت علاج بھارت میں
13 December, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد