آن لائن بلی چوہے کا کھیل جاری رہے گا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈجیٹل رائٹس مینیجمنٹ یا ’ڈی آر ایم‘ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس پر لوگوں کی رائے ابھی تک منقسم ہے۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ ڈجیٹل مصنوعات کو اصل میں جو چیز خراب کرتی ہے وہ ڈی آر ایم کے طور پر استعمال ہونے والے ناقص سافٹ ویئر ہوتے ہیں جبکہ آن لائن فلمیں اور ریکارڈ فروخت کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ وہ نہایت اہم دفاعی آلہ ہے جس سے وہ اپنی مصنوعات کو ہیکروں کے حملوں سے بچاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سافٹ وئر کو محفوظ رکھنے والے ڈی آر ایم یا کوڈ بنانے والی کمپنیوں اور ان کا توڑ بنانے والے کپمیوٹر ہیکروں کے درمیان بلی چوہے کا کھیل مسلسل جاری ہے۔ جوں ہی کوئی نیا ڈی آر ایم مارکیٹ میں آتا ہے یا کسی کسی پرانے ڈی آر ایم کو اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے ہیکروں کی فوج اس پر ٹوٹ پڑتی اور وہ اکثرگھنٹوں یا چند دنوں میں کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈ لیتے ہیں جس سے کوڈ کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال اگست میں ایک ہیکر نے مائیکروسافٹ کے ڈی آر ایم کا توڑ تین دنوں میں بنا لیا تھا۔ اس کی تازہ ترین مثالیں یہ ہیں کہ جولائی میں مائیکروسافٹ نے جو اپ ڈیٹ متعارف کرائی تھیں ان کا توڑ نکال لیا گیا تھا اور اسی ماہ ایپل کے ’فیئر پلے‘ کے نام سے جاری ہونے والے ڈی آر ایم کو بھی ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس بارے میں جوپیٹر ریسرچ نامی کمپنی کے تجزیہ کار مارک ملیگن کا کہنا ہے کہ ہیکروں کے لیے ڈی آر ایم کی بھی وہی حیثیت ہے جو فائر والز کی ہے۔ مفت ٹرائلز ان کا کہنا تھا کہ ’میوزک ڈی آر ایم کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بنانے والوں کا اپنا دُہرا معیار ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ انٹر نیٹ پر ڈجیٹل فارمیٹ میں جس میوزک ایلبم پر ڈی آر ایم لگا ہوتا ہے وہی میوزک سی ڈی بازار میں ڈی آر ایم کے بغیر فروخت کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میوزک ایلبم کا ڈی ایم آر ہیکرز محض تفنن طبع کے لیے توڑتے ہیں۔‘ اس بات کاجائزہ لینے کے لیے کہ آیا ہیکرز میوزک فائلوں پر لگے ڈی آر ایم کو محض شوق کے لیے توڑتے ہیں، آن لائن میوزک بیچنے والی کچھ کمپنیوں نے ایک تجربہ کیا۔ مثلاً اس برس اپریل میں موسیقی بیچنے والی ایک بہت بڑی کمپنی ’ای ایم آئی‘ نے اعلان کیا کہ وہ وہ مشہور میوزک البم بغیر ڈی آر ایم کے دستیاب کرے گی اور یہ میوزک ایپل کے آئی ٹیون کے ذریعے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا۔ اسی طرح گزشتہ ماہ یونیورسل میوزک نے بھی کہا کہ وہ چھ ماہ کے لیے تجرباتی بنیادوں پر ڈی آر ایم کے بغیر آن لائن میوزک فروخت کرے گی۔ فلموں کی سائٹس پر کھیل جاری
میوزک کی طرح فلموں کے ڈاؤن لوڈ مہیا کرنے والی ویب سائٹس، مثلاً ’سنیما ناؤ‘ اور ’ان بوکس‘ پر بھی ڈی ایم آر استعمال کیے جاتے ہیں۔ تاہم مسٹر ملیگن کا کہنا ہے کہ ڈی وی ڈیز پر لگے ڈی آر ایم پر ہیکروں کو زیادہ ہنسی نہیں آتی اور وہ انہیں توڑنے میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے جتنی وہ میوزک کے معاملے میں دکھاتے ہیں۔ تان کہاں ٹوٹے گی؟ میوزک کے بعد اب انٹر نیٹ پر دستیاب آن ڈیمانڈ ٹیلی ویژن بھی ہیکروں کا نشانہ بن رہا ہے۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ آپ یہ بات بھول جائیں کہ ہم کبھی بھی کوئی ایسا ڈی ایم آر بنا سکیں گے جسے توڑا نہ جا سکے گا، اس لیے جب تک سافٹ وئر بنانے والی کمپنیوں اور ہیکروں میں سے کوئی ایک جیت نہیں جاتا اس وقت تک بلی چوہے کا یہ کھیل جاری رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||