مختلف پلیٹ فارم، مختلف مسائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کمپیوٹر اور وڈیو گیمز بنانے کی صنعت میں ملازمت کے لیے تربیت یافتہ افراد کو ان دنوں کافی مقابلے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ نت نئے کنسولز کی ریلیز سے پرانے پلیٹ فارم کے لیے بنائی گئی گیمز کی فروخت میں کمی آئی ہے جبکہ آئندہ آنے والی گیمز کے لیے مارکیٹ کافی محدود ہے۔ ’اسکرین ڈائجسٹ‘ نامی رسالے کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں گیمز سافٹ ویئر بنانے والی کمپنیوں کی آمدنی میں تین ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔ تو آج کل وڈیو اور کمپیوٹر گیمز کی صنعت میں پیر جمانا کتنا مشکل ہے؟ یورپ میں ’الیکٹرانِک آرٹس‘ نامی کمپنی میں تقرریوں کے سربراہ میٹ جیفری کو ہر اسامی کے لیے سینکڑوں ڈیزائنروں کی درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ میٹ جیفری کہتے ہیں: ’سب سے زیادہ تربیت یافتہ افراد برطانیہ اور یورپ میں بستے ہیں۔ اس لیے ہمارے لیے چیلنج ہے کہ اپنے اسٹوڈیو میں سب سے قابل ماہرین کی تقرری کیسے کریں۔‘
برطانیہ میں کئی یونیورسٹیاں گیمز کے ڈیزائن اور اس سے متعلق سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں دے رہے ہیں۔ اس طرح کے ڈگری کورسز میں آرٹیفیشیل انٹیلیجنس، گیمز فِزکس اور سی پلس پلس جیسے کمپیوٹر پروگراموں کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ آرٹ اور ڈیزائن میں انیمیشن اور ٹو ڈی اور تھری ڈی ماڈلِنگ کی تربیت بھی عام ہوتی جارہی ہے۔ گیمز کے شعبے کے معیاری سافٹ ویئر سیکھنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کے طالب علم حقیقی دنیا کے مسائل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ گیمز بنانے کی کورس میں اس یونیورسٹی کے طالب علم ریان وِلٹشائر نے چینی مارکیٹ کے لیے ایک آن لائن رول پلئنگ گیم بھی تیار کی۔ وہ کہتے ہیں: ’چین میں بہت افراد کو کمپیوٹر گیمز کی لت پڑ گئی ہے جس کی وجہ سے چینی حکومت نے گیمز کھیلنے کا دورانیہ محدود کردیا ہے۔‘ ’چینی حکومت کے اس قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے ایک گیم ڈیزائن کی جس میں اگر آپ تین گھنٹوں کے بعد کچھ وقفے کے لیے آرام کرلیں تو گیمز کے کیریکٹرز کی شخصیت بہتر ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر آپ لمبے وقفے تک بغیر آرام کیے گیمز کھیلتے رہیں تو کیریکٹرز کمزور ہونے لگتے ہیں۔‘
یہ سافٹ ویئر ایکس این اے فریم ورک کا استعمال کرتا ہے جس میں ایسے کوڈ یا انیبلِنگ پلیٹ فارم ہیں جن کی مدد سے گرافِکس اور آواز کو ضروت کے مطابق تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس کی مدد سے ڈیزائنرز ایکس باکس تھری سِکسٹی کے لیے بھی گیمز بناسکتے ہیں۔ مائکروسافٹ کا خیال ہے کہ اگرچہ یہ مفت سافٹ ویئر ہے لیکن ساتھ ساتھ اس میں اس صنعت کی کمپنیوں کو ایک ٹیکنیکل پلیٹ فارم پر مہیا کرنے کی اہلیت بھی ہے۔ برطانیہ میں مائکروسافٹ کے اہلکار اینڈریو سیتھرز کہتے ہیں کہ وہ طالب علموں اور اساتذہ کی ایسی کمیونٹی تشکیل دینے کی کوشش میں ہیں جو ایکس این اے فریمورک کا استعمال کرکے ایکس باکس تھری سِکسٹی کے لیے گیمز بنائیں۔ گیمز کی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بنانے والی کمپنی ’الیکٹرانِک آرٹس‘ بھی کئی برطانوی یونیورسٹیوں کے ساتھ ملکر کام کررہی ہے اور عمل میں یونیورسٹیوں کو اسکالرشِپ اور کورسز کے مواد بھی فراہم کرتی ہے۔
تاہم گیمز کی ڈیزائن اور ڈیولپمنٹ میں انٹرنشِپ اور ڈِگری کورسز کافی نہیں ہیں۔ میٹ جیفری کے ساتھی اور سینیئر ڈیزائنر کرِس رابرٹ کا خیال ہے کہ بڑے پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے بہتر ہنر کی ضرورت ہے۔ رابرٹ کی ٹیم ان دنوں ہیری پوٹر اینڈ دی آرڈر آف فِنکس کو گیمز میں تبدیل کررہی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’اس وقت اسی سے سو افراد ہیری پوٹر پر کام کررہے ہیں۔‘ ان کے خیال میں اتنی بڑی ٹیم کے لیے خصوصی کمیونیکیشن کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پلے اسٹیشن ٹو کے لیے کِل زون، سِنگ اسٹار اور وائپ آؤٹ جیسے گیمز بنانے والے ڈیو رینارڈ کہتے ہیں کہ گیمز صنعت میں کامیابی کے لیے کسی بھی ڈیزائنر کی شخصیت کافی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق بڑی بڑی ٹیموں میں کام کرتے وقت ڈیزائنروں کو کافی ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہذا ایسے ڈیزائنر جو اپنے کام کے بارے میں پراعتماد تو ہیں لیکن مغرور نہیں وہ کامیاب رہیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||