موبائل صارف کی نگرانی نہایت آسان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موبائل فون میں موجود ٹرانسمیٹر کی مدد سے اب کسی بھی موبائل صارف کی نشاندہی ممکن ہوگئی ہے۔ اس وقت متعدد ویب کمپنیاں یہ سہولت مہیا کر رہی ہیں کہ آپ اپنے عزیزو اقارب کے بارے میں یہ معلوم کر سکیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ لیکن کیا اس قسم کی معلومات کو انٹرنیٹ پر مہیا کرنا محفوظ ہے؟ کسی بھی شخص کی نقل و حرکت پر نظر رکھے جانے کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کوئی بھی کمپنی دفتری اوقاتِ کار کے دوران اپنے ملازموں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنا چاہ سکتی ہے یا پھر والدین اپنے بچوں کی حرکات کے بارے میں جاننا چاہ سکتے ہیں۔ نقل وحرکت پر نظر رکھنے سے متعلق برطانیہ میں دستیاب آلات موبائل فون نیٹ ورک سے مطلوبہ فون کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں اور پھر تلاش کا کام کرنے والی کمپنیاں انٹرنیٹ پر ایک نقشے پر اس فون کی نشاندہی کر دیتی ہیں۔ کسی بھی فون کے موجودہ مقام کی نشاندہی کے علاوہ یہ کمپنیاں اس فون پر مستقل نظر رکھنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ ان ویب کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے آپ کو بذریعہ کریڈٹ کارڈ اپنی شناخت کروانے کےعلاوہ آپ کے مطلوبہ فون نمبر کے مالک سے بھی اس نگرانی کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہ اجازت ایک ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے لی جاتی ہے۔
موبائل براڈ بینڈ گروپ نےنقل وحرکت کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایک رضاکارانہ ضابطۂ اخلاق بھی بنایا ہے۔ اس ضابطۂ اخلاق کی ایک شق کے مطابق جب ایک فون بطور ’ٹریکنگ ڈیوائس‘ رجسٹر ہو جائے تو اس فون کے مالک کو بذریعہ ٹیکسٹ پیغام وقفے وقفے سے اس بات کی یاد دہانی کروائی جائے کہ اس کی نقل و حرکت کی نگرانی کروائی جا سکتی ہے یا کروائی جار ہی ہے۔ اس عمل سے کسی بھی صارف کو بتائے بغیر اس کے فون کی نگرانی ممکن نہیں رہے گی۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ تنبیہی پیغامات متواتر نہیں بھیجے جا سکتے۔ اس سلسلے میں متعدد فونوں کی نگرانی کی گئی اور اکثر ان تنبیہی پیغامات کے آنے میں دو سے تین دن لگے۔ موبائل براڈ بینڈ گروپ کے ہمیش میکلائیڈ کا اس ضابطۂ اخلاق کے بارے میں کہنا ہے کہ’ ہم نے اس ضابطۂ اخلاق کی تیاری کے وقت ان تمام خدشات کو مدِ نظر رکھا تھا اور ماہرین سے رائے بھی طلب کی تھی اور جہاں تک ان تنبیہی پیغامات کے تواتر کی بات ہے ہمارے نزدیک یہ پیغامات خطرات سے محفوظ رکھتے ہیں‘۔ برطانوی بچوں میں موبائل فون رکھنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ اس بات کا بھی ریکارڈ رکھا جائے کہ کون ان کی نقل وحرکت کی نگرانی کر رہا ہے۔ اگر آپ اصل والدین یا نگران نہیں تو اس ضابطۂ اخلاق کے تحت نگرانی کرنے والی کمپنیاں اس بات کی ذمہ دار ہیں کہ وہ تصدیق کریں کہ نگرانی کرنے والا اور جس کی نگرانی کی جا رہی ہے دونوں بالغ ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیش میکلائیڈ کہتے ہیں کہ’ وہ شخص جس کی نگرانی کی جا رہی ہے اسے نگران کمپنی کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس کی عمر سولہ سال سے زیاد ہے اور یہ تصدیق متعدد طریقوں مثلاً کریڈٹ کارڈ کی مدد سے کی جا سکتی ہے‘۔ اگرچہ اس ضابطۂ اخلاق کو بنانے والوں کی نیت نیک ہے تاہم موبائل براڈ بینڈ گروپ کا ماننا ہے کہ اس میں ابھی بہت بہتری کی گنجائش ہے۔ حقوق انسانی کے ایک گروپ’لبرٹی‘ کے رہنما جاگو رسل کا کہنا ہے کہ’ ہمیں اس صنعت کے ضابطۂ اخلاق کے بارے میں خدشات ہیں۔ یہ کوئی قانونی ضابطہ نہیں اور اگر اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو صارف کو قانونی حل مہیا نہیں کیا جا سکتا‘۔ | اسی بارے میں ’موبائل فون دماغ پر اثر نہیں کرتا‘20 January, 2006 | نیٹ سائنس 2005 ’ڈیجیٹل شہری‘ کا سال 02 January, 2006 | نیٹ سائنس اب موبائل فون پر ٹی وی دیکھیے29 December, 2005 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ فون کالوں میں اضافہ03 November, 2005 | نیٹ سائنس ٹی وی موبائل فون، منڈیوں کی جنگ 13 September, 2005 | نیٹ سائنس سر کی جنبش سےگانا تبدیل05 April, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||