ٹی وی موبائل فون، منڈیوں کی جنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موبائل فون پر ٹیلی ویژن کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان منڈیوں کے حصول کے لیے مقابلہ یز تر ہو گیا ہے۔ جنوبی کوریائی کمپنیاں ایل جی اور سیمسنگ ایمسٹرڈیم میں ہونے والے بین الاقوامی براڈکاسٹنگ کنونشن میں ایک سے زیادہ چینل والے اپنے موبائل فون کو متعارف کرا رہی ہیں۔ تیس دیگر کمپنیاں بھی اس کنونشن میں شامل ہیں۔ جنوبی کوریا کی یہ دونوں کمپنیاں سن دو ہزار چھ میں جرمنی میں ہونے والے عالمی فٹبال کپ مقابلوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپ میں قدم جمانا چاہتی ہیں۔ کوریا کی ان کمپنیوں کو یورپی کمپنی نوکیا سے کڑے مقابلے کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ فِن لینڈ میں ہونے والے عالمی ایتھلیٹک مقابلوں میں فن لینڈ کی ہی کمپنی نوکیا نے اپنے ملک کے ٹیلی کوم اور نشریاتی اداروں کے ساتھ مل کر تجرباتی طور پر موبائل فون پر ٹیلی ویژن کی سہولیات فراہم کی تھیں۔ نوکیا کی اس کوشش پر رد عمل میں کہا گیا کہ فون خوبصورت نہیں تھا اور تصاویر کے رنگ معیاری نہیں تھے گو کہ وہ واضح تھیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹیلی ویژن کی سہولیات سے موبائل فون کی کارکردگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ موبائل فون میں ویب سائٹوں سے رابطے اور مختلف موضوعات پر ووٹنگ کی سہولت ہونی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق موبائل فون میں سہولیات کے اضافے کے ساتھ ساتھ اس کا سائز چھوٹا رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||