BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 January, 2006, 15:24 GMT 20:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
2005 ’ڈیجیٹل شہری‘ کا سال
عام افراد نے سات جولائی کے دھماکوں کی حیرت انگیز تصاویر لیں
بلاشبہ دو ہزار پانچ ایسا سال رہا ہے جس میں لوگوں نے موبائل فونز کو نہ صرف باتیں اور ٹیکسٹ کرنے کے لیے استعمال کیا بلکہ ڈیجیٹل کیمروں کی بدولت انہوں نےحیرت انگیز تصاویر لیں اور دنیا بھر کو مختلف واقعات کی جھلکیاں دیکھنے کا موقع دیا۔

ٹیکنالوجی کی جدت کے باعث یہ حقیقت بارہ ماہ پہلے ہی صاف ظاہر تھی کہ ایک عام شخص آنے والے دنوں میں بے شمار گیجٹس سے لیس ہوگا اور یوں اس کے پاس ڈیٹا محفوظ کرنے اور دوسروں سے شیئر کرنے کی کہیں زیادہ صلاحیت ہوگی۔

یہ ایک ایسا سال تھا جس میں عام افراد نے معلومات پہنچانے والے پروفیشنل افراد کو پیچھے چھوڑ دیا، چاہے وہ خبروں کا معاملہ ہو یا میوزک اور فلموں کا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ دو ہزار پانچ ایسا سال ثابت ہوا ہے جس میں جدید گیجٹس سیاسی نظریے کے اظہار اور رپورٹنگ کے لیے طاقتور ذرائع بن گئے ہیں۔ ساتھ ہی ایک عام آدمی کا کردار بھی پہلے سے زیادہ اہم اور بامعنی ہوگیا ہے۔

میڈیا نے اب ایسی شکل اختیار کرلی ہے جس میں عام افراد کو کہیں زیادہ نمائندگی ملنے لگی۔

سن دو ہزار چار میں سونامی کے واقعے نے جدید گیجٹس کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ اس دن کی زیادہ تر تصاویر اور ویڈیو عام افراد نے لی تھیں جنہیں ٹی وی اور بیشتر میڈیا نے بار بار استعمال کیا اور تمام دنیا کو اصل واقعہ سے قریب تر کردیا۔

سات جولائی دو ہزار پانچ کو ہونے والے لندن بم دھماکوں اور پھر امریکہ میں آنے والے سمندری طوفانوں کے واقعات میں عام شہریوں نے دنیا بھر تک خبریں پہنچانے میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کیا۔

عینی گواہوں کی بنائی ہوئی ویڈیو اور تصاویر نے پریس کیمرے کی پہنچ سے بہت پہلے واقعات کو محفوظ کرلیا۔

حال ہی میں بی بی سی کو لوگوں نے لندن میں تیل کے ڈپو میں بھڑکنے والی آگ کی ساڑھے پانچ سو تصاویر اور وڈیو بھیجیں۔ یہ تعداد لندن بم دھماکوں کی تصاویر سے کہیں زیادہ ہے۔

کئی نجی اداروں کی کوشش ہے کہ وہ میڈیا اور عام افراد کے درمیان مذاکرات کار کا کردار ادا کریں تاکہ عام افراد کی جمع کی گئیں معلومات اور ڈیٹا کو بھی جملہ حقوق مل سکیں۔

سن دو ہزار پانچ کو الوداع کرنے کے وقت سولہ ملین برطانوی افراد میں سے چھیاسٹھ فیصد افراد کی نظریں ڈیجیٹل ٹی وی پر مرکوز تھیں۔

یوں دوہزار پانچ ڈیجیٹل ترقی اور تبدیلیوں کے لیے ایک اہم سال ثابت ہوا ہے اور اسی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ اگلے بارہ ماہ اپنے ساتھ مزید دلچسپی اور جدت لیے ہوں گے۔

اسی بارے میں
’آزادی چھن جائے گی‘
08 September, 2003 | نیٹ سائنس
کلِک آن لائن ویڈیو پر دیکھیں
29 April, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد