عام ڈیجیٹل کیمروں کا فلمی انقلاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عام استعمال کے لئے بنائے جانے والے ویڈیو کیمروں نے فلمیں بنانے کا خواب دیکھنے والوں کے لئے ایک انقلاب برپا کردیا ہے۔ منی ڈی وی نامی کیمرے جو آج کل عموماً ٹی وی اور نیوز کے کام کے لئے استعمال ہوتے ہیں اب تجرباتی طور پر فلمیں بنانے کے لئے بھی استعمال ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک کامیاب مثال ’نومبر‘ نامی ایک فلم ہے جس کے ہدایتکار گریگ ہیریسن نے یہ فلم صرف ڈیڑھ لاکھ ڈالر کے بجٹ میں مکمل کر لی جبکہ کم بجٹ کی فلم کا اوسط بجٹ دس سے بیس لاکھ ڈالر ہوتا ہے۔ اس فلم کو سن ڈانس ایوارڈ ملنے سے یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ ڈیجیٹل فلمیں بھی اس طرح عکس بندی کرسکتی ہیں جس طرح پینتیس ایم ایم یا عام فلم پر کیا جاسکتا ہے۔ فلم کے ہدایتکار گریگ ہیریسن کا کہنا ہے کہ وہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی حدوں کو مزید آگے دھکیلنا چاہتے تھے تاکہ ڈیجیٹل کیمروں کے ذریعے بھی بالکل اسی طرح فریمنگ یا روشنی اور سایے کا استعمال کیا جاسکے جیسے فلم کیمروں میں کیا جاتا ہے۔ فلم نومبر کی سینماٹو گرافر نے ڈیجیٹل کیمرے میں اس کے رنگوں کی سکیم کو شوٹنگ کی جگہ کے رنگوں سے ملا کر بالکل ویسا ہی تاثر حاصل کیا جیسا کہ ایک بڑے فلم کیمرے سے ملتا ہے۔ ڈیجیٹل کیمرے کی قیمت کم ہونا بھی بہت فائدہ مند ثابت ہورہاہے۔ ان کیمروں کی قیمت عموماً ڈھائی ہزار ڈالر ہوتی ہے لہذا اس فلم کے لئے ہدایتکار نے پچیس کیمرے خریدے اور ایک سین کو مختلف کیمروں سے مختلف زاویوں سے ایک ہی بار میں شوٹ کر لیا۔ اس طرح سے فلم کی شوٹنگ میں عموماً ایک ہی سین کو بار بار مختلف زاویوں سی شوٹ کرنے کے جھنجھٹ سے بھی چھٹکارا مل گیا۔ اس طرح کے کئی اور تجربات سے ثابت ہورہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تخلیقی استعمال سے فلم بنانے کے لئے درکار بڑے بجٹ سے بچا جا سکے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||