BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 February, 2006, 17:42 GMT 22:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹونوں کی اشاعت پر ڈیجیٹل احتجاج
ان حملہ آوروں میں مختلف ہیکرز گروپوں کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر بھی لوگ شامل ہیں۔
پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کرنے والے ہیکروں نے ڈنمارک ور یورپی ممالک کی دو ہزار سے زائد ویب سائٹوں کو مسخ کر دیا ہے۔ ان حملوں میں انہوں نے ویب سائٹس کے پہلے صفحات تبدیل کردئیے ہیں اور اب ان صفحات کی بجائے اسلامی پیغامات ملتے ہیں یا پھر پیغمبر اسلام کے خاکوں کی مذمت کی گئی ہوتی ہے۔

ہیکروں کے حملوں پر نظر رکھنے والے ایک گروپ زون ایچ کے مطابق ان حملہ آوروں میں مختلف ہیکرز گروپوں کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر بھی لوگ شامل ہیں۔

زون ایچ نے مزید کہا کہ اگرچہ زیادہ تر ہیکروں نے معتدل قسم کے پیغامات چھوڑے ہیں تا ہم ان میں کئی پیغامات ایسے بھی ہیں جن میں کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف پرتشدد احتجاج کے لیے کہا گیا ہے۔

گروپ زون ایچ کے بانی اور سربراہ رابرٹو پریٹونی نے کہا ہے کہ انہوں نے اتنی قلیل مدت میں کسی ویب سائٹ کومسخ کرنے کے اتنے زیادہ واقعات اس سے پہلے کھبی نہیں دیکھے۔

مسٹر پریٹونی کے مطابق ہیکروں نے جن کمپیوٹر چینلز کے ذریعے یہ پیغامات چھوڑے ہیں ان کے معائنہ سے پتا چلتا ہے کہ مختلف اسلامی ممالک نے ایک مشترکہ کوشش کے ذریعے ویب سائٹس پر احتجاج کو موثر بنایا ہے۔ ویب سائٹس پر ہیکروں کے یہ حملے ترکی، سعودی عرب، عمان اور انڈونیشیا سے مختلف گروپوں نے کیے ہیں۔

مسٹر پریٹونی کے مطابق ان میں سے زیادہ تر گروپ خاصے مشہور ہیں تاہم ان کا ساتھ کچھ نئے گروپوں نے بھی دیا۔

ویب سائٹس کو مسخ کرنے کی اس مہم میں ڈنمارک کی نو سو سے زائد ویب سائٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مسٹر پریٹونی کے مطابق ان کے علاوہ ایک ہزار چھ سو سے زائد دوسری یورپی ویب سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

مسٹر پریٹونی نے مزید کہا کہ مسخ کی جانے والی زیادہ تر ویب سائٹس ایک دن میں ٹھیک کر دی گئیں تاہم وہ ویب سائٹس جن کے ’ہوم پیج‘ کے علاوہ دیگر صفحات کو بھی مسخ کیا گیا ہے ان کو درست کرنے میں کئی ماہ بلکہ سال لگ سکتے ہیں۔

نشانہ بننے والی زیادہ تر ویب سائٹس چھوٹی کمپنیوں کی ہیں جن کے پاس سیکورٹی کا خاطر خواد انتظام موجود نہیں تھا۔

مسٹر بریٹونی کے مطابق اس بات کے ابھی تک کوئی شواہد نہیں ملے کہ اسلامی گروپوں کے حملوں کے جواب میں مغربی ممالک نے بھی ویب سائٹس پر کوئی حملے کیے ہوں۔

ٹیلیفون کال کی ٹیکنالوجی ’وائس اوور آئی پی‘
انٹرنیٹ فون میں ہیکروں کی دلچسپی
اسی بارے میں
صدر بش گوگل بمباری کی زد میں
08 December, 2003 | نیٹ سائنس
کمپیوٹر جاسوسی سے ہوشیار
17 April, 2004 | نیٹ سائنس
امریکہ: کریڈٹ کارڈز کوخطرہ
19 June, 2005 | نیٹ سائنس
پین ٹیسٹنگ، کمپیوٹر کا آڈٹ
13 August, 2005 | نیٹ سائنس
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد