ٹیکنالوجی کا مقابلہ ٹیکنالوجی سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ پر رقم کی ادائیگی کرنے والی کمپنی نوچیکس کے سیکورٹی ڈائریکٹر آصف ملک کے لئے 23 اگست 2004 کا دن ایک معمول کا دن ہی تھا۔ لیکن پھر شام سات بجے ان کے ان باکس میں ایک ای میل آئی اور سب کچھ بدل گیا۔ آصف ملک سے اِس ای میل میں ایک نامعلوم شخص نے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر ان کی کمپنی نے دس ہزار ڈالر تاوان کے طور پر ایک یورپی بینک اکاؤنٹ میں جمع نہ کروائی تو ان کی کمپنی کی سائں پر حملہ کیا جائے گا۔ شروع میں آصف ملک نے اس دھمکی کو بہت سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ انہیں پہلے بھی ایسی بہت سے ای میل موصول ہوتی رہتی ہیں اور عموماً ان دھمکیوں پر عمل نہیں کیا جاتا۔ لیکن پھر جب کمپنی کی سائٹ شام آٹھ بجے ڈاؤن ہوگئی تو آصف ملک نے فیصلہ کیا اس کے بارے کچھ کرنا پڑے گا۔ بڑی کمپنیوں کی سائٹس پر ایسے حملے آج کل بہت عام ہیں اور ہیکرز عموماً رقوم کی ادائیگی یا جوا کھیلنے والی یا ایسی سائٹس کو نشانہ بناتے ہیں جو اگر ڈاؤن ہوجائیں تو ان کمپنیوں کو خاصہ نقصان ہوتا ہے۔ لہِذا ان میں سے کئی کمپنیاں کئی مرتبہ تاوان دینے پر تیار ہوجاتی ہیں کیونکہ کمپنی کی سائٹ ڈاؤن ہونے کی صورت میں کمپنی کو ہونے والے نقصان کے مقابلے میں تاوان کی رقم بہت کم ہوتی ہے۔ ان حملوں کو DDoS کہا جاتا ہے اور ان میں بنیادی طور پر ہوتا یہ ہے کہ ہیکرز بہت سے کمپیوٹروں کو جو آن لائن ہوتے ہیں ان کے مالکان کو خبر کئے بغیر ایک طرح سے اپنے اس حملے میں شامل کرلیتے ہیں۔ ان کمپیوٹرز کو ’زومبی‘ کمپیوٹرز کہا جاتا ہے اور ان کے ذریعے بہت سا جنک مواد حاصل کرتے ہیں اور اس مواد کو جس کمپنی کی سائٹ پر حملہ کرنا ہو اس کی طرف روانہ کردیتے ہیں۔ اس طرح حملے کا نشانہ بننے والی سائٹ پر ایک دم سے بہت سا ڈیٹا آنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ اس لوڈ کی وجہ سے ڈاؤن ہوجاتی ہے۔ لیکن جب نوچیکس کی سائٹ پر حملہ ہوا اور وہ ڈاؤن ہوگئی تو آصف ملک نے فیصلہ کیا کہ وقت آگیا کہ سائٹ کے ’اغوا کاروں‘ سے مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے ان ’اغوا کاروں‘ سے اگلے روز صبح تک کا وقت طلب کیا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ کل تک تاوان کی رقم ادا کردیں گے۔ لیکن آصف ملک نے یہ یقین دہانی کروانے کے بعد یہ فیصلہ بھی کیا کہ وہ تاوان ادا نہیں کریں گے اور اس ٹیکنالوجی کے حملے کا مقابلہ ٹیکنالوجی سے ہی کریں گے۔ لیکن آصف ملک کی کمپنی کے لئے اس حملے کا مقابلہ کرنا بہت مہنگا پڑا۔انہیں اس سوفٹ وئیر کے لئے ابتدائی طور پر بیس ہزار ڈالر کا خرچہ کرنے کے علاوہ تین ہزار ڈالر ماہانہ بھی ادا کرنا پڑےگا۔ یعنی ایک طرح سے دیکھا جائے تو آصف ملک کی کمپنی کو تاوان ادا کرنا سستا پڑتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||