امریکہ: کریڈٹ کارڈز کوخطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی کریڈٹ کارڈز کمپنی کے حکام کا کہناہے کہ ایک کمپیوٹر ہیکر کی جانب سے چالیس ملین سے زائد کریڈٹ کارڈز اکاونٹس ہیک کیےجانے کا خطرہ ہے۔ ماسٹر کارڈز انٹر نیشنل کا کہنا ہے کہ اس گڑبڑ کا سراغ اٹلانٹا میں ایک کمپنی میں ہوا جو بینکوں اور تاجروں کے لیے لین دین کا عمل سرانجام دیتی ہے۔ کمپنی نے خبردار کیاہے کہ اس عمل سے کریڈٹ کارڈز کے تمام برینڈز متاثر ہو سکتے ہیں۔ کارڈز سسٹم سولوشن کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نےاس گڑبڑ کی نشاندہی پچھلے ماہ ہی کر دی تھی اور اس سلسلے میں فوراً ایف بی آئی سے رابطہ کیا تھا جس نے اس معاملے کی چھان بین شروع کر دی تھی۔ کمپنی نے جمعہ کو ایک پریس ریلیز میں اس گڑبڑ کا اعلان کیا تھا۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ کریڈٹ کارڈز کے نظام میں خامیوں کی وجہ سے اس نے کہا کہ کمپنی کے چالیس ملین سے زائد کسٹمرز اس فراڈ کے نتیجے میں متاثر ہوسکتے ہیں۔ جبکہ اس کے بائیس ملین ویزا کارڈز ہولڈر ہیں۔ ماسٹر کارڈز کی ترجمان خاتون شیرن جیمسن نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ڈیٹا جس میں کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کے نام، بینکوں اور اکاؤنٹ نمبروں کی تفصیلات شامل ہیں، رقوم کی چوری میں یہ تفصیلات استعمال کی جاسکتی ہیں مگر کون سے کی جائیں گی یہ کہنا مشکل ہے۔ کمپنی نےماسٹر کارڈز جاری کرنے والے بینکوں کو اس مسئلے سے آگاہ کر دیا ہے۔ ماسٹر کارڈز کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کریڈٹ کارڈز کی سکیورٹی کے حوالے سے اضافی طریقے وضح کر رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||