کمپیوٹر جاسوسی سے ہوشیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئے مطا لعے کے مطابق عام کمپیوٹر میں ایک ایسا سا فٹ ویئر پوشیدہ ہوتا ہے جو اس بات کی خبر رکھتا ہے کہ صارف آن لائن ہو کر کیا کیا کرتا ہے۔ امریکہ میں نیٹ کی سہولت فراہم کرنے والے ادارے ارتھ لنک کا کہنا ہے کہ ذاتی استعمال کے ہر کمپیوٹر پر سال کے ابتدائی تین ماہ میں اس نے اٹھائیس ایسے خفیہ سافٹ ویئر کا پتہ چلایا ہے جوصارف کے آن لائن کے استعمال پر نظر رکھتے ہیں۔ یہ خفیہ سافٹ ویئر جنہیں سپائی ویئر بھی کہا جاتا ہے، ذاتی استعمال کے کمپیوٹر میں کچھ اس طرح گھر بنا لیتے ہیں کہ صارف کو خبر تک نہیں ہوتی۔ اور یہ مسئلہ امریکہ میں اتنا گھمبیر ہوگیا ہے کہ وہاں اس سپائی ویئر کو روکنے یا اس معاملے کو قانونی شکل دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ارتھ لنک کی یہ تحقیق جنوری سے مارچ تک تقریباً ایک لاکھ کمپیوٹروں کی چھان بین کا نتیجہ ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ سپائی سافٹ ویئر بعض اوقات اس فائل میں موجود ہوتے ہیں جو کسی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کی جاتی ہے۔ اور اس کی تفصیل لائیسنس کے اس سمجھوتے میں لکھی ہوتی ہیں جسے صارف کو ماننا پڑتا ہے اور جو انتہائی چھوٹی تحریر میں لکھا ہوتا ہے۔ تاہم کبھی کبھی سپائی سافٹ ویئر کو صارف کی اجازت کی ضرورت بھی نہیں رہتی اور کسی فائل کے ڈاؤن لوڈ کرنے کے ساتھ ہی یہ سافٹ ویئر کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک تک پہنچ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام سپائی ویئر کے کمپیوٹر پر جگہ بنانے کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ صارف کو اچانک اچھل کر سامنے آ جانے والے اشتہارات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سافٹ ویئر سے آپ کی ذاتی معلومات چُرا کر ویب پر پہنچائی جاتی ہیں اور ہیکرز کو ذاتی کمپیوٹرز تک رسائی ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی سپائی سافٹ ویئر سے بچنا چاہے تو وہ سپائی بوٹ جیسے سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کر کے محفوظ رہ سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||