ڈسکوری مرکز کی طرف روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلائی شٹل ڈسکوری سنیچر کو کیلیفورنیا کےایڈورڈس ائیر بیس سے فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر کی جانب روانہ ہوگئی ہے۔ شٹل کو خصوصی انتظامات کے ساتھ جمبو جیٹ کی جہاز کی پشت پرباندھ کر لے جایا گیا ہے۔تین ہزار پانچ سواکیاون کلو میٹر فاصلے پر مشتمل اس سفر کے لیے امریکی خلائی ادارہ ناسا ایک ملین ڈالر کی اخراجات اٹھا رہا ہے۔ ڈسکوری کو اپنے سات عملے کے ہمراہ نو اگست کو خراب موسم کی وجہ سے سپیس سینٹر پر اترنے کی بجائے ایڈورڈس ائر بیس پر اترنا پڑا تھا۔ شٹل انٹرنیشنل خلائی سینٹر میں اپنا چودہ روز کا خلائی سفر مکمل کرکے زمین پر اتری تھی۔ اس کے زمین پر اترنے کے بعد اس کی مرمت کےکام کا آغاز کردیا گیا تھا۔ تکنیکی عملے نے اس کے سامنے کے حصے میں المونیم کا ایک ایسا حصہ بنیایا جس کے ذریعے اسے کچھنچنے میں آسانی ہو سکے۔ رات دن کام کرنے والے اس کے عملے نے آخر اسے سفر کے قابل بنا دیا۔ جمعہ کو ناسانے یہ اعلان کیا تھا کہ شٹل مارچ سے پہلے پرواز نہیں کرے گی۔ شٹل کو بیس پر اس لیےاتنا عرصہ رکنا پڑا کیوں کہ اس کے بیرونی ایندھن کے ٹینک سےفوم کا ایک ٹکڑا ٹوٹ گیا تھا۔ اس طرح کی ہی صورت حال کی وجہ سے دو ہزار تین میں کولمبیا زمین پراترتے وقت تباہ ہوگئی تھی اور اس میں سوار ساتوں خلانورد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||