BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 April, 2005, 02:47 GMT 07:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دنیا کے گہرے ترین غار میں
کروبیرا غار
غار میں اترنے کے لیے عمودی فاصلہ بھی طے کرنا پڑا
یوکرائن کی ایک ٹیم نے غار میں گہرائی تک جانے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

یوکرائن کی نو ارکان پر مشتمل ٹیم نے دنیا کے گہرے تین غار کروبیرا میں زمین کی سطح کے نیچے دوہزار اسّی میٹر یعنی دو کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ میں سونے کی کانوں میں کانکن تین ہزار چار سو میٹر گہرائی میں جاتے ہیں۔ لیکن غار سر کرنے والوں کے لیے دو ہزار اسّی میٹر اب تک سب سے زیادہ فاصلہ ہے۔

پانی نے راستہ روکا
پانی نے راستہ روکا
کروبیرا غار جارجیا کے الگ ہو جانے والے علاقے ابغازیا میں واقع ہے۔

اس ٹیم نے غار میں گہرائی تک جانے کے لیے اس سے پہلے جانے والی ٹیموں کے بنائے ہوئے راستے پر سفر کیا۔ ٹیم کا خیال ہے شاید اس غار میں مزید گہرائی تک جایا جا سکتاہے۔

ٹیم کے ارکان نے غار کی گہرائی میں یہ سفر پانچ ٹن وزنی سامان کے ساتھ طے کیا۔ راستے میں انہیں سخت ٹھنڈے پانی کے تالابوں میں سے بھی گزرنا پڑا اور کہیں کہیں عمودی اترائی بھی تھی۔ کچھ مقامات پر راستہ اتنا تنگ تھا یا پتھروں کے گرنے کی وجہ سے بند ہو چکا تھا کہ گزرنے کے لیے انہیں دھماکے کر کے راہ بنانا پڑی۔

تفصیلات
 مہم کی تفصیلات اور تصاویر نیشنل جیوگرافک کے اس ماہ کے شمارے میں دیکھی جا سکتی ہیں

انہوں نے پہلا کیمپ سات سو میٹر، دوسرا بارہ سو پندرہ میٹر، تیسرا چودہ سو دس اور چوتھا سولہ سو چالیس میٹر کی گہرائی میں بنایا۔ وہ انہی کیمپوں میں کھانا بناتے تھے اور ایک کیمپ میں چھ لوگ اکٹھے سوتے تھے۔ بعض اوقات انہوں نے بغیر رکے بیس بیس گھنٹے کام کیا۔

اگست ستمبر دو ہزار چار میں چھپن افراد پر مشتمل ایک ٹیم نے اسی غار میں کافی گہرائی تک سفر کیا۔ انہیں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کا راستہ پانی کے ایک تالاب نے روک لیا تھا۔ ٹیم کے رکن نے پانی میں اترنے کی کوشش کی تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے کپڑوں میں سوراخ ہو چکے ہیں اور ٹھنڈ کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

بالآخر ٹیم کے ارکان ڈینس کرتا اور دمیتری فیدوتوو پانی کے نیچے سو میٹر لمبے ایک تنگ راستے میں سے آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے۔

اکتوبر میں نو افراد پر مشتمل ایک ٹیم دوبارہ بھیجی گئی جس نے وہیں سے اپنا سفر شروع کیا جہاں سے پہلی ٹیم واپس گئی تھی۔ غار کے سب سے نچلے حصہ میں انہیں راستوں کا ایک نیا سلسلہ اور گڑھے ملے جن میں اُترا جا سکتا تھا۔

مزیر گہرائی تک جانے کا عزم
مزیر گہرائی تک جانے کا عزم

انیس اکتوبر دو ہزار چار کو ٹیم کے سربراہ یوری کاسخانایک گڑھے میں اترے تو ان کے پاس گہرائی بتانے والے آلے نے دکھایا کہ وہ دو ہزار میٹر کی گہرائی میں ہیں۔

ٹیم نے اس گڑھے کا نام ’گیم اوور‘ یعنی ’کھیل ختم‘ رکھا لیکن اب وہ واپس جا کر غار میں مزید گہرائی تک جانے کے امکان کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد