BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 December, 2003, 07:30 GMT 12:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مریخ کا مشن: مایوسی اور آخری کوششیں
بیگل کی خاموشی، سائنسدانوں کی مایوسی

برطانیہ میں سائنس دانوں نے مریخ پر بھیجے جانے والے بیگل-ٹو نامی خلائی مشن سے رابطے میں پھر ایک مرتبہ مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

شمالی برطانیہ میں واقع ایک بہت بڑا ریڈیو ٹیلسکوپ بھی بیگل سے کسی قسم کا سِگنل موصول کرنے میں ناکام ہوا ہے۔ سائنسدانوں کو توقع تھی کہ یہ دوربین بیگل سے جاری ہونے والی خفیف سگنل کی نشاندہی کر سکتا ہے، جس سے انہیں یہ پتا چلتا کہ بیگل صحیح سلامت مریخ پر پہنچ چکا ہے ۔ تاہم ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے۔

اس مایوس کن خاموشی کے باوجود سائسندانوں نے امید نہیں چھوڑی ہے اور وہ جمعے کے روز پھر ایک مرتبہ بیگل سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سے قبل مریخ کے قریب سے پرواز کرتا ہوا ایک امریکی خلائی مشن بیگل سے رابطہ قائم کرنے میں ناک ہوا تھا۔

اس مشن کو چالیس کروڑ کلومیٹر کا سفر طے کر کے مریخ تک پہنچنا تھا اور سائنس دانوں کو خدشہ ہے کہ بیگل یا تو تباہ ہوگیا ہے یا پھر اس سے رابطے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

مشن کے ذمہ دار سائنس دانوں کے گروپ کے سربراہ کولن پیلنگر کا کہنا ہے کہ ’بیگل سے رابطہ نہ ہونا (یا اس کا تباہ ہوجانا) مایوس کن ضرور ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا ٹھہر گئی ہے۔‘

بیگل کا مریخ تک کا سفر غالباً ٹھیک نہںی رہا

بیگل کو مریخ پر یہ جاننے کے لئے بھیجا گیا تھا کہ معلوم ہو سکے کہ آیا سرخ سیارے پر حیات کے آثار ہیں یا نہیں۔ انیس سو ستر کے بعد مریخ پر بھیجا جانے والا یہ پہلا مشن تھا۔

بیگل ٹو پر نسبتاً کم لاگت آئی تھی اور اس کا نام نظریہ ارتقاء پیش کرنے والے سائنس دان چارلس ڈارون کے اس جہاز کے نام پر رکھا گیا تھا جسے ڈارون نے انیسویں صدی میں اپنے نظریے پر تحقیق کے لئے استعمال کیا تھا۔

بیگل سے رابطہ نہ ہونے کی اطلاع سے پہلے یہ خبر آئی تھی کہ بیگل ٹو کامیابی سے مریخ کے مدار میں داخل ہوگیا ہے۔ وقتِ مقررہ کے مطابق بیگل-ٹو کو گرینچ کے وقت کے مطابق جمعرات کی صبح دو بجکر چُوُُن منٹ پر مریخ کی سطح پر اترنا تھا۔

اس سے قبل سائنس دان ایئن رائٹ نے بتایا تھا انہیں مشن میں کسی خرابی کی کوئی توقع نہیں۔

ماہرین کے مطابق مشن کی کامیابی کے خلاف جانے والی باتیں زیادہ ہیں۔ انیس سو ساٹھ سے اب تک مریخ پر تیس سے زیادہ مشن روانہ کیے گئے ہیں جن میں سے صرف تین مریخ پر کامیابی سے اتر سکے ہیں۔

یہ سب کے سب امریکی مشن تھے جن پر بہت زیادہ لاگت آئی تھی۔تاہم بیگل-ٹو کو ریکارڈ وقت میں تیار کیا گیا تھا اور اس پر نسبتاً کم لاگت آئی تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد