بغیر رُکے، سوئے ہوئے دنیا کا چکر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ساٹھ سالہ امریکی مہم جو سٹیو فاسٹ تنہا ایک جیٹ طیارے میں بغیر رکے اور سوئے ہوئے دنیا کا چکر لگانے کا سوچ رہے ہیں۔ انہیں اس پرواز کے دوران دوبارہ ایندھن بھروانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ لکھ پتی فاسٹ اس سے پہلے ساٹھ عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ انہوں نے سن دو ہزار دو میں گرم ہوا سے اڑنے والے غبارے میں دنیا کے گرد چکر لگایا تھا۔ نیند کو مات کرنے کے لیے فاسٹ کو یہ سفر انتہائی تیزی سے طے کرنا پڑے گا۔ جہاز میں آٹو پائلٹ کی سہولت موجود ہے لیکن فاسٹ کو آلات پر نظر رکھنے کے لیے ہوشیار رہنا پڑے گا۔ تین روز یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے فاسٹ کو دس یا پندرہ منٹ کی اونگھ پر گزارا کرنا ہوگا۔ لیکن تنہا بغیر رکے دنیا کا چکر لگانے کا ریکارڈ قائم کرنے کے لیے وہ شارٹ کٹ نہیں لے سکیں گے۔ برٹ رتان نامی انجنیئر نے اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے طیارہ ڈیزائن کیا ہے۔ اس جہاز کا نام گلوبل فلائر ہے۔
رتان اس سے پہلے بھی اس طرح کا چیلنج قبول کر چکے ہیں۔ ان کے بھائی نے ان کے بنائے ہوئے جہاز میں ایک معاون پائلٹ کے ساتھ بیس سال قبل بغیر دوبارہ ایندھن بھروائے دنیا کا چکر لگایا تھا۔ اس جہاز کا نام وائجر تھا۔ گلوبل فلائر کے پر ایک بوئنگ طیارے کے سائز کے ہیں۔ ان کی لمبائی ایک سو چودہ فٹ ہے۔ پرواز کے دوران فاسٹ پینتالیس ہزار سے لے کر باون ہزار فٹ کی بلندی پر سفر کریں گے۔ جہاز میں ایندھن کا وزن آٹھ ہزار ایک سو کلوگرام ہوگا اور جہاز کو پرواز کے لیے مطلوبہ بلندی تک پہنچنے میں چودہ گھنٹے لگیں گے۔ فاسٹ کی ٹیم گلوبل فلائر پر تئیس تجرباتی پروازیں کر چکی ہے اور سٹیو فاسٹ کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے ایک پرواز مزید کرنا باقی ہے۔ فاسٹ امریکہ میں کنساس سے پرواز کریں گے۔وہ مشرق میں بحر اوقیانوس پر سے پرواز کرتے ہوئے برطانیہ جائیں گے اور وہاں سے جنوب مشرق کی جانب بڑھیں گے۔فاسٹ بحیرہ روم اور خلیج فارس پر سے گزر کر پاکستان، بھارت، چین اور جاپان کے اوپر سے بھی پرواز کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||