روس: چرچ میں گیم کھیلنے والا بلاگر جیل میں

،تصویر کا ذریعہ
روس میں ایک بلاگر کو چرچ میں اپنے سمارٹ فون پر پوکیمون گو گیم کھیلنے کی جرم میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
یکیٹرنبرگ کی ایک مقامی عدالت نے کہا کہ چرچ میں پوکیمون گو گیم کھیلنے والے شخص نے رہائی کے لیے درخواست دائر کی ہے۔
روسی پولیس نے 21 سالہ روسی بلاگر روسلن سوکولوسکی کو اس وقت گرفتار کیا جب انھوں نے آرتھوڈاکس چرچ میں پوکیمون گیم کھیلتے ہوئے اپنی ویڈیو بنائی۔
روسلن سوکولوسکی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے مذہبی عقائد کا مذاق اڑایا ہے۔
پوکیمون گو میں لوگ اپنے سمارٹ فون کی کیمرا ایپ کی مدد سے اصل دنیا میں چھپے پوکیمون کے غیرحقیقی کردار ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ گیم دنیا بھر میں زبردست مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔
دنیا بھر سے ایسی اطلاعات تواتر کے ساتھ آتی رہتی ہیں کہ لوگ اپنے فون کی سکرین پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے چیزوں سے الجھ کر گر پڑے ہیں اور انھیں چوٹیں آئی ہیں۔
تحقیق کارروں اور چرچ اہلکاروں نے کہا ہےکہ روسلن سوکولوسکی کو چرچ میں ویڈیو بنانے پرگرفتار کیا گیا ہے نہ کہ گیم کھیلنے کی وجہ سے۔
روسلن سوکولوسکی نے روسی اخبار ماسکو ٹائمز سے بات کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کو کم عقلی سے تعبیر کیا۔’اگر آپ چرچ میں سمارٹ فون لیے چل رہے ہیں تو اس سے کسی کے مذہبی عقائد کو کیسے ٹھیس پہنچتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جولائی میں روسی ٹی وی پوکیمون گو گیم کھیلنے والوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ چرچ میں گیم کھیلنے کی صورت میں وہ تین برسوں کے لیے جیل جا سکتے ہیں۔
روسی پنک بینڈ ’پُسی رائٹ‘ سے تعلق رکھنے والی نادیہ ٹولوکونیکوا نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں روسلن سوکولوسکی کی حمایت کی ہے۔
نادیہ ٹولوکونیکوا کو اور ان کی ایک ساتھی کو چرچ میں غل غپاڑہ کرنے کے الزام میں قریباً دو برس تک جیل میں رہنا پڑا تھا۔







