زیکا سے متاثرہ بچے ’بظاہر نارمل ہو سکتے ہیں‘

زیکا وائرس اور نومولود بچوں کےغیر معمولی طور پر چھوٹے سروں کے درمیان تعلق ہے
،تصویر کا کیپشنزیکا وائرس اور نومولود بچوں کےغیر معمولی طور پر چھوٹے سروں کے درمیان تعلق ہے

برازیل میں بچوں پر کی جانے والی ایک بڑی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زیکا وائرس کی وجہ سے جو بچے دماغی خرابی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ممکن ہے کہ وہ بالکل ٹھیک یا نارمل دکھائی دیں۔

زیکا وائرس اور نومولود بچوں کےغیر معمولی طور پر چھوٹے سروں کے درمیان تعلق ہے۔

تاہم لینسٹ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دماغی معذوری کے شکار بچوں میں سے ہر پانچویں بچے کو نارمل کے زمرے میں رکھا جا سکتا تھا۔

٭ <link type="page"><caption> زیکا اندازے سے کہیں زیادہ خطرناک: ماہرین</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2016/05/160502_zika_more_dangerous_hk" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> زیکا وائرس کی ویکسین چوہوں میں ’کامیاب‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2016/06/160629_zika_vaccine_zis" platform="highweb"/></link>

برازیل کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ زیکا وائرس نومولود بچوں کے دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

زیکا وائرس زیادہ تر ایسے لوگوں میں پایا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر میں اس وائرس کی علامات نہیں تھیں۔

بعض کیسز میں بچے مر جاتے ہیں اور جو بچ جائیں انھیں ذہنی معذوری اور نشو و نما میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

محققین نے برازیل میں گذشتہ فروری تک رپورٹ ہونے والے تمام کیسز کا جائزہ جس سے معلوم ہوا کہ اس وائرس کا خطرہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو سوچا گیا تھا۔

حاملہ خواتین میں حمل کے آخری دنوں میں جلد پر دھبے ہونا زیکا وائرس کی بنیادی علامت ہے اور ایسی صورتحال میں ممکن ہے کہ بچہ نارمل سائز کے سر کے ساتھ پیدا ہو۔

برازیل کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ زیکا وائرس نومولود بچوں کے دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAssociated Press

،تصویر کا کیپشنبرازیل کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ زیکا وائرس نومولود بچوں کے دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے

یونیورسٹی فیڈرل ڈی پیلوٹس کے محقق پروفیسر سیزر وکٹوراکا کہنا ہے کہ ’ہماری تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حمل کے دوران زیکا وائرس سے متاثر ہونے والی خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں ذہنی معذوری اور چھوٹے سر کی شکایت ہوتی ہے، جبکہ دیگر میں معمول کے مطابق سروں کے ساتھ معذوری ہوتی ہے اور بعض متاثرہ نہیں ہوتے۔‘

محققین کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ زیکا سے متاثرہ حاملہ خواتین میں سے ہر تیسری خاتون کی جلد پر کوئی دھبہ نہیں پایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمال مشرقی برازیل میں زیکا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کے چھ سے نو ماہ بعد 2015 کے آخر میں غیر معمولی طور پر چھوٹے سروں کے کیسز میں اضافہ ہوا۔

لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر جمی وائٹورتھ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ یہ وائرس سوچ سے زیادہ باعث تشویش حد تک پہنچ چکا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’زیکا وائرس کی قابل اعتماد تشخیص میں کمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ جاننا انتہائی مشکل ہے کہ کون سی خاتون متاثرہ ہیں۔‘