زیکا کا خطرہ، لاطینی امریکہ میں اسقاط حمل میں اضافہ

وہ ممالک جہاں حمل پر پابندی سے متعلق ہدایات نہیں جاری کی گئی تھیں وہاں اسقاط حمل کی طلب کہیں کم ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنوہ ممالک جہاں حمل پر پابندی سے متعلق ہدایات نہیں جاری کی گئی تھیں وہاں اسقاط حمل کی طلب کہیں کم ہے

محققین کا کہنا ہے کہ لاطینی امریکہ میں زیکا وائرس کے پھیلاؤ‌ کے خطرے سبب اسقاط حمل کروانے کی خواہشمند خواتین کی تعداد اضافہ ہوا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق برازیل میں یہ شرح دگنی ہوگئی ہے جبکہ دیگر ممالک میں ایک چوتھائی اضافہ ہوا ہے۔

بہت سارے ممالک نے خواتین کو حاملہ ہونے سے اجتناب برتنے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش سے بچا جا سکے۔

نیو انگلینڈ‌ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق لاطینی امریکہ کے بہت سارے علاقوں میں اسقاط حمل کروانا غیرقانونی ہے جس کی وجہ سے خواتین غیر سرکاری ذرائع سے رجوع کر رہی ہیں۔

ایسا ہی ایک ذریعہ ویمن آن ویب نامی ویب سائٹ ہے جو خواتین کو آن لائن مشورے دیتی ہے اور حمل گرانے کے لیے گولیاں فراہم کرتی ہے۔

محققین نے 17 نومبر 2015 کو پین امریکن ہیلتھ آگنائزئشن کی جانب سے زیکا کے حوالے سے تنبیہ جاری کرنے سے پہلے ویمن آن ویب پر پانچ سال تک موصول ہونے والی درخواستوں کا جائزہ لیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق برازیل میں یہ شرح دگنی جبکہ دیگر ممالک میں ایک چوتھائی اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایک اندازے کے مطابق برازیل میں یہ شرح دگنی جبکہ دیگر ممالک میں ایک چوتھائی اضافہ ہوا ہے

اس سے اندازہ لگایا گیا کہ 17 نومبر 2015 سے یکم مارچ 2016 تک کتنے اسقاط حمل متوقع ہیں۔

جائزے یہ امر سامنے آیا ہے کہ وہ ممالک جہاں حمل سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی تھی ان میں برازیل اور ایکواڈور میں پہلے کی نسبت اسقاط حمل کی طلب میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔

وہ ممالک جہاں حمل پر پابندی سے متعلق ہدایات نہیں جاری کی گئی تھیں وہاں اسقاط حمل کی طلب کہیں کم ہے۔

اس تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف کیمبرج کی ڈاکٹر کیتھرین ایکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہر جگہ حکومتوں نے کہا کہ حاملہ نہ ہوں اور زیکا کی منتقلی ہو رہی ہے تو یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے والی خواتین کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔‘

ڈاکٹر کیتھرین کے مطابق ان ممالک میں حمل کو مؤخر کرنے کے حوالے سے ’کھوکھلا پیغام‘ دیا گیا جس سے ’خوف کی فضا‘ قائم ہوگئی ہے۔