شمسی توانائی سے چلنے والا طیارہ ایریزونا پہنچ گیا

،تصویر کا ذریعہEPA
دنیا کے گرد چکر لگانے کے لیے کوشاں سولر امپلس نامی بغیر ایندھن کے چلنے والے طیارے نے امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ایریزونا کا سفر مکمل کر لیا ہے۔
یہ طیارے کے سفر کا دسواں مرحلہ ہے جس کے دوران اس کا کنٹرول سوئس ہوا باز آندرے بورش برگ کے ہاتھوں میں تھا۔
طیارے کے دوسرے ہوا باز برٹرینڈ پیکارڈ ہیں، جنھوں نے ایک ہفتہ قبل ہوائی سے سان فرانسسکو تک طیارہ اڑایا تھا۔ یہ دونوں ہوا باز اس ایک شخص کی گنجائش والے طیارے کو باری باری چلاتے ہیں۔
حالیہ پرواز 1160 کلومیٹر پر محیط تھی جس کے دوران طیارے نے موفیٹ کے ہوائی اڈے سے صبح پانچ بجے سفر شروع کیا جو فینکس میں رات نو بجے ختم ہوا۔
پیکارڈ اور بورش برگ جون کے آغاز میں نیویارک پہنچنے کی کوشش کریں گے، جس کے بعد بحرِ اوقیانوس کو عبور کرنے کی تیاریاں شروع ہو جائیں گی۔
کم رفتار، ہلکے وزن اور 72 میٹر لمبے پروں کی وجہ سے یہ طیارہ صرف مخصوص موسمی حالات میں سفر کر سکتا ہے۔
شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے اس کے پروں پر 17 ہزار سولر سیلز نصب ہیں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے لیتھیئم بیٹریاں نصب ہیں جن کی مدد سے یہ رات کو بھی سفر کر سکتا ہے۔
سولر امپلس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ مستقبل میں ایسے طیارے اڑائے جائیں۔ اس کی بجائے اس کی مدد سے حالیہ تکنیکی صلاحیت، خاص طور پر شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی کی طرف لوگوں کی توجہ مرکوز کرنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کی ٹیم کا نعرہ ہے: ’مستقل صاف و شفاف ہے۔‘
سولر امپلس متحدہ عرب امارات کی ریاست ابو ظہبی سے اڑکر عمان، انڈیا اور میانمار عبور کرتا ہوا چین پہنچا تھا۔ اس نے وہاں سے جاپان اور پھر جاپان سے ہوائی تک کا 8924 کلومیٹر کا سفر پانچ دنوں اور پانچ راتوں میں کیا تھا جو کسی بھی طیارے کے طویل ترین سفر کا ریکارڈ ہے۔







