سولر امپلس مہم کے اگلے مرحلے پر روانہ

،تصویر کا ذریعہAP
شمسی توانائی سے چلنے والے ایک طیارے نے دنیا کے گرد چکر لگانے کی مہم کے اگلے مرحلے کے طور پر امریکی ریاست کیلی فورنیا سے ایریزونا تک کا سفر شروع کر دیا ہے۔
سولر امپلس نامی اس طیارے کے اس مرحلے کا سفر 16 گھنٹوں پر محیط ہو گا جس کے اختتام پر وہ فینکس شہر میں اترے گا۔
طیارے نے گذشتہ سال ابوظہبی سے اپنے سفر کے آغاز کی کوشش کی تھی، لیکن اس کی بیٹریاں گرم ہو جانے کی وجہ سے پرواز تاخیر کا شکار ہو گئی تھی۔
اس ایک شخص کی گنجائش والے طیارے کو دو پائلٹ باری باری چلاتے ہیں۔
فینکس کے بعد سولر امپلس امریکہ میں دو مزید شہروں میں اترے گا جس کے بعد وہ صرف سورج سے ملنے والی توانائی استعمال کرتے ہوئے بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کی کوشش کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
کم رفتار، ہلکے وزن اور 72 میٹر لمبے پروں کی وجہ سے یہ طیارہ صرف مخصوص موسمی حالات میں سفر کر سکتا ہے۔
شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے اس کے پروں پر 17 ہزار سولر سیلز نصب ہیں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے لیتھیئم بیٹریاں نصب ہیں جن کی مدد سے یہ رات کو بھی سفر کر سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی ریاست ابو ظہبی سے اڑکر یہ عمان، انڈیا اور میانمار عبور کرتا ہوا چین پہنچا تھا۔ اس نے وہاں سے جاپان اور پھر جاپان سے ہوائی تک کا 8924 کلومیٹر کا سفر پانچ دنوں اور پانچ راتوں میں کیا تھا جو کسی بھی طیارے کے طویل ترین سفر کا ریکارڈ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







