صدی میں پہلی مرتبہ شیروں کی تعداد میں اضافہ

شیر

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشندنیا کے شیروں کی آدھی سے زیادہ تعداد انڈیا میں پائی جاتی ہے

ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکن کہتے ہیں کہ گذشتہ ایک صدی میں پہلی مرتبہ میں جنگلی شیروں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ورلڈ وائڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور گلوبل ٹائیگر فورم کے مطابق گذشتہ عالمی ’شیرشماری‘ کے دوران 3890 شیر دیکھے گئے ہیں۔

سنہ 2010 میں جنگلوں میں صرف 3200 شیر تھے جبکہ اس کے مقابلے پر 1900 میں دنیا بھر میں ایک لاکھ شیر پائے جاتے تھے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شیروں کی تعداد بڑھی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ڈیٹا حاصل کرنے کے ذرائع بہتر ہوئے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے جنگلی تحفظ کے نائب صدر گینیٹ ہیملی کے مطابق حتمی نمبروں سے کہیں اہم یہ رجحان ہے، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ رجحان درست سمت میں جا رہا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر جنرل مارکو لیمبرٹینی کہتے ہیں کہ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ’جب حکومتیں، مقامی برادریاں اور تحفظ کے کارکن مل کر کام کریں تو ہم جانوروں کا انواع اور ان کی رہنے کی جگہ کو بچا سکتے ہیں۔‘

شیر

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکمبوڈیا میں شیر تقریباً معدوم ہو گئے ہیں

یہ شیرشماری اس وقت جاری کی گئی ہے جب اگلے ہفتے دہلی میں ان 13 ممالک کے نمائندوں کا اجلاس ہو رہا ہے جہاں شیر پائے جاتے ہیں۔ کانفرنس میں امید کی جائے گی کہ 2022 تک شیروں کی اس تعداد کو دوگنا کر دیا جائے گا۔

حالیہ اندازوں کے مطابق صرف انڈیا ہی میں دنیا کے آدھے سے زیادہ یعنی 2226 شیر رہتے ہیں۔ لیکن انڈونیشیا میں ان کی تعداد کم ہو رہی ہے جہاں پام آئل، گودا اور کاغذ کی طلب کی وجہ جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے۔

کمبوڈیا بھی شیروں کی معدوم ہونے کے بعد انھیں دوبارہ متعارف کرانے کے متعلق سوچ رہا ہے۔

جانوروں کے رہنے کی جگہ پر انسانوں کے قبضہ کے علاوہ شیروں کا شکار اس لیے بھی کیا جاتا ہے کہ ان کے جسم کے حصے حاصل کر کے انھیں بیچا جائے۔